’احسن اقبال پر حملہ کرنے والے کا تعلق تحریکِ لبیک سے ہے‘

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر نارووال میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آور نے اپنا تعلق مذہبی تنظیم تحریک لبیک سے بتایا ہے تاہم اس تنظیم نے حملہ آور سے اعلانِ لاتعلقی کیا ہے۔
احسن اقبال پر اتوار کی شام کنجروڑ کے علاقے میں اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ اپنے انتخابی حلقے میں مسیحی برادری کی ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔
انھیں ایک گولی دائیں بازو پر لگی تھی جو کہنی کی ہڈی توڑتی ہوئی ان کے پیٹ میں داخل ہو گئی تھی۔
مزید پڑھیے
احسن اقبال کو نارووال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اتوار کی شب سروسز ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد اب انھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیرِ داخلہ پر فائرنگ کرنے والے عابد حسین نامی شخص کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ نارووال کے تھانہ شاہ غریب میں درج کر لیا گیا ہے اور اس میں اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حملے کی تحقیقات کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے نارووال کے ضلعی پولیس افسر عمران کشور کا کہنا تھا کہ اس کارنر میٹنگ کا انعقاد بنا منصوبہ بندی کیا گیا تھا اور اسی لیے ملزم وہاں اسلحہ لے کر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
عمران کشور نے یہ بھی بتایا کہ ملزم کا تعلق ویرم نام گاؤں سے ہے اور ماضی میں وہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں پایا گیا ہے۔
نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس واقعے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نارووال کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا تعلق نارووال کی تحصیل شکر گڑھ سے ہے اور اس نے حملے کے وقت وزیر داخلہ پر 30 بور کی پستول سے فائر کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنا تعلق مذہبی جماعت تحریک لبیک سے ظاہر کیا ہے۔ تاہم تحریک لبیک کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ اس مبینہ حملہ آور کا نام پہلی مرتبہ سن رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کی پالیسی عدم تشدد پر مبنی ہے ہم اپنے کارکنان کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ختم نبوت کے لیے اپنی کوشش پرامن کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
خیال رہے کہ احسن اقبال پر حملے کے فوراً بعد ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر حملہ آور کی تحریکِ لبیک سے وابستگی کے بارے میں بحث چھڑ گئی تھی اور ٹوئٹر پر #TLPPeacefulOrg کا ٹرینڈ چلنے لگا تھا۔
حملے کی تحقیقات کرنے والے نارووال کے ڈی پی او عمران کشور کے مطابق پولیس تفتیش کے دوران تحریکِ لبیک والا زاویہ بھی مدِنظر رکھا جا رہا ہے تاہم وہ فی الحال ملزم کے اس تنظیم سے تعلق پر تبصرہ نہیں کر سکتے کیوں اس سے تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔











