عدالتی فیصلے میں نواز شریف اور مریم نواز کی تقریر پر پابندی نہیں عائد کی گئی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی طرف سے عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے تقاریر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت ایسی خبر چلوائی گئی ہے تاکہ نہ صرف معاشرے میں شرانگیزی پھیلے بلکہ لوگ عدلیہ کو برا بھلا بھی کہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے کہا کہ وہ عدالتی فیصلہ پڑھیں اور بتائیں کہ کیا اس فیصلے میں کہیں نواز شریف اور مریم نواز کا ذکر ہے کہ اُنھیں تقاریر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 19 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی جو کہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے۔

بینبچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کے قائم مقام سربراہ سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے اس خبر پر کیا کارروائی کی ہے جس پر پیمرا کے قائم مقام سربراہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اُن اخبارات اور ان ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کیے ہیں جنھوں نے یہ خبر شائع اور نشر کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ ایسی غلط خبر کورٹ رپورٹرز نے دی ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کی خبر عدلیہ کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے جس پر توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ عدلیہ مثبت تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز تقاریر کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہاں آ کر بھی کر سکتے ہیں۔

عدالت نے پیمرا کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے پر سپریم کورٹ کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیمرا کی طرف سے عدالتوں میں کیوں پیش ہوتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے پیمرا کے وکیل ہیں جس پر چیف جسٹس نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا وہ پاناما کیس میں شریف خاندان کی طرف سے پیش نہیں ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ حسن نواز اور حسین نواز کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت کے استفسار پر مذکورہ وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کی تشریح کے بارے میں وہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے پیش ہوتے رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے اور اُنھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

نواز شیرف مریم نواز
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس نے کہا کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز تقاریر کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہاں آ کر بھی کر سکتے ہیں

جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ اس پر عدالت سے معافی مانگتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کو معطل کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے باہر عدلیہ مخالف نعرے لگائے گئے لیکن ججز نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کے باہر عدلیہ مخالف تقاریر کرنے اور نعرے لگانے پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی خواتین کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔