لاڑکانہ میں گلوکارہ کی ہلاکت، سندھ مختلف شہروں میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہSindh Police
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں حاملہ گلوکارہ ثمینہ سندھو کے قتل کے خلاف مختلف شہروں میں گلوکاروں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جبکہ ملزم کو سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
لاڑکانہ میں پولیس کے مطابق ختنے کی تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک مقامی گلوکارہ ثمینہ سندھو ہلاک ہو گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
جمعرات کو گلوکارہ ثمینہ سندھو کے قتل کے خلاف حیدرآباد، سکھر، دادو، کندھ کوٹ اور ٹنڈو محمد خان میں گلوکاروں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہروں میں مفرور ملزمان کی بھی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق گرفتار ملزم طارق جتوئی کو پولیس نے فرسٹ سول ایڈیشنل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزم کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
ملزم طارق جتوئی کا کہنا ہے کہ وہ سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے، ثمینہ نے تین گیت گائے تھے کہ اسی دوران اس نے ہوائی فائرنگ کی جس میں سے ایک گولی اس کو لگ گئی لیکن انھوں نے ٹارگٹ کرکے گولی نہیں چلائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملزم نے اس الزام کو مسترد کیا کہ انھوں نے ثمینہ کو کھڑے ہوکر گانے کو کہا تھا اور ملزم کہ اس نے جیسے کھڑے ہوکر گانا شروع کیا تو اس کو گولی لگ گئی۔
ثمینہ سندھو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ملزم کی میڈیکل رپورٹ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی لاڑکانہ تنویر تنیو کے مطابق ختنے کی تقریب کے دوران موسیقی کی محفل کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی جا رہی تھی کہ اسی دوران اتفاقی طور پر ایک گولی گلوکارہ ثمینہ سندھو کو لگی جس سے وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
لاڑکانہ میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والی گلوکارہ ثمینہ سندھو کے شوہر عاشق سموں کا کہنا ہے کہ صرف ان کی بیوی کا نہیں بلکہ بچے کا بھی قتل ہوا ہے کیونکہ وہ حاملہ تھیں۔
کنگا پولیس نے عاشق سموں کی درخواست پر ملزم طارق سمیت تین ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔
عاشق سموں کی مقدمے کی درخواست کے مطابق ان کی 20 سالہ بیوی ثمینہ جو 8 ماہ کی حاملہ تھی رسم ختنہ کی تقریب میں محفل موسیقی میں گانے گئی تھیں۔
عاشق سموں کے مطابق رات کو محفل جاری تھی وہ سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ طارق جتوئی اور دو دیگر کھڑے ہوگئے جن کے ہاتھوں میں پستول تھے اور ثمینہ کو کھڑے ہو کر گانے کو کہا لیکن اس نے جواب دیا کہ وہ حاملہ ہیں کھڑے ہو کر نہیں گا سکتیں جس پر ملزم طارق نے فائرنگ کر دی۔
’فائرنگ کے نتیجے میں میری بیوی کو پیٹ میں ایک گولی لگی جو جسم سے آرپار ہو گئی اور نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔‘
ثمینہ سندھو مقامی گلوکارہ تھی ان کی آٹھ کیسٹس مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔
ان کے قتل کے خلاف بدھ کی صبح مقامی فنکاروں اور گلوکاروں نے لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس میں ملزمان کی گرفتاری اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔









