امریکی سفارت کار کے ہاتھوں پاکستانی طالب علم کی ہلاکت،پاکستان کیا کارروائی کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ایک شہری کی ہلاکت کے بعد حکومت کے پاس اس سفارت کار کے خلاف کارروائی کرنے کے بہت محدود اختیارات ہیں۔
سنیچر کو امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی جوزف امانوئل نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور ان کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔
اب کیا اس سفارت کار کے خلاف پاکستان کے اندر کارروائی ہو سکتی ہے؟ تو اس کا جواب نہ میں ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے سابق قانونی مشیر اور لمز یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر سکندر شاہ کے مطابق امریکی سفارت کار کو ویانا کنونشن کے تحت مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور اس کی وجہ سے حکومت زیادہ سے زیادہ اس سفارت کار کو ناپسندہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکال سکتی ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
ویانا کنونشن کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس کنونشن کے تحت کوئی بھی انسان اپنے ملک کی سفارت کار کے طور پر نمائندگی کرتا ہے تو اس کو بذاتِ خود ریاست ہی تصور کیا جاتا ہے تو اس صورتحال میں چونکہ ملک خود مختار ہوتا ہے تو ایسے نہیں ہو سکتا ہے کہ امریکی ریاست کو پاکستانی ریاست سزا دے رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ کنونشن کے تحت سفارتی ایجنٹ کو نہ صرف سرکاری فرائض کی ادائیگی بلکہ اپنے نجی کاموں کے دوران مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ سفارتی تعلقات کے حوالے سے 1961 کے لا آف دا لینڈ اور ویانا کنونشن کے تحت کارروائی ہو گی۔
تو اس کے تحت پاکستان کیا کارروائی کر سکتا ہے؟ اس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتِ پاکستان کے سیاسی عزم پر انحصار کرتا ہے کہ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

پروفیسر سکندر شاہ کے مطابق پاکستان امریکہ کو کہہ سکتا ہے کہ وہ اس سفارت کار کی سفارتی استثنیٰ ختم کرے یا اس کے خلاف امریکی قوانین کے تحت کارروائی کرے کیونکہ وہاں بھی ٹریفک سگنل توڑنا اور حادثے میں ملوث ہونا جرم ہے۔
’اگر امریکہ اس میں سے کوئی بھی اقدام نہیں اٹھاتا ہے تو یہ سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے لیکن یہ پاکستان کے سیاسی عزم پر ہے کہ وہ اس معاملے کو کتنا آگے لے کر جانا چاہتا ہے کیونکہ جنوبی کوریا سمیت دنیا میں پہلے ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں امریکہ کو سفارتی استثنیٰ ختم کرنا پڑی تھی اور مقامی طور پر سزا دی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دو ویانا کنوینشن ہیں جن میں ایک قونصلر تعلقات اور دوسرا سفارتی تعلقات کا کنوینشن ہے اور پاکستان نے ان دونوں کنوینشن پر عمل درآمد کے لیے دونوں کو ملا کر 1961 کے لا آف لینڈ بنایا تھا۔
’لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ اس کے تحت مقامی قوانین کا اطلاق کرنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔‘
2011 میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں دو افراد کی ہلاکت اور اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات میں کیا فرق ہے؟
اس پر بین الاقوامی قانون کے ماہر جمال عزیز نے بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کنٹریکٹر تھا اور اس کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں تھی جبکہ فوجی اتاشی جوزف امانوئل کے پاس مکمل سفارتی استثنیٰ ہے۔
پروفیسر سکندر شاہ نے بھی بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں پاکستان نے دو ٹوک کہا تھا کہ اس کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں ہے کیونکہ کسی ملک کے لیے کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہوں یا قونصل سروسز میں ہوں تو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتی لیکن اگر مکمل استثنیٰ حاصل ہو تو اس صورت میں چاہے قتل کر دیں تو حل صرف ملک بدری ہو سکتا ہے۔









