آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشال خان قتل کیس کے مرکزی ملزم عارف خان کو گرفتار کر لیا گیا
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں حکام کا کہنا ہے کہ عبدالوالی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان قتل کیس میں روپوش اہم ملزم محمد عارف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مردان کے ڈی آئی جی محمد عالم شنواری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو تصدیق کی کہ روپوش ملزم محمد عارف کو جمعرات کو مردان کے علاقے رنگ روڈ سے ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم گذشتہ تقریباً ایک سال سے روپوش تھا تاہم بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملک سے باہر تھا۔
مردان میں بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے خود پولیس کو گرفتاری دی ہے تاہم ڈی آئی جی مردان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ پولیس کسی ملزم کو گرفتار کرانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہے جس میں دباؤ ڈالنا اور دیگر دوسرے حربے شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملزم کو چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال عبدالوالی خان یونیورسٹی مردان میں شعبۂ صحافت کے طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں بے دری سے قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے اس قتل کے جرم میں 50 سے زیادہ طلبہ اور یونیورسٹی کے دیگر ملازمین کو گرفتار کیا تھا تاہم اس واقعے کے اہم ملزم محمد عارف روپوش ہو گئے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے یونیورسٹی میں مبینہ طورپر اشتعال انگیز تقریر کی تھی جس کی وڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی جاری کی گئی تھی۔
گذشتہ ماہ ہری پور کی جیل میں قائم انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول پر گولی چلانے والے عمران علی کو سزائے موت جبکہ پانچ دیگر مجرمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے 25 دیگر مجرموں کو چار، چار سال قید کی سزا سنائی جبکہ 26 دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا۔