آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشال قتل کیس کے 25 مجرمان کی سزائیں معطل، ضمانتیں منظور
پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے مشال خان قتل کیس میں سزا پانے والے 25 مجرمان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔
ملزمان کے وکلا کی ٹیم میں شامل افتخار مایار ایڈووکیٹ نے بی بی سی کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ انھوں نے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمانت کی درخواست کریمینل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 462 کے تحت دائر کی گئی تھی جس کے مطابق عدالت کسی مجرم کی سزا معطل کر کے اسے ضمانت پر رہا کر سکتی ہے۔
مشال خان قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے
افتخار مایار نے کہا کہ ’مشال کیس میں قانونی پیچیدگیوں کو درست طریقے سے نہیں پرکھا گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ابھی سزائیں معطل ہوئی ہے اور یہ ختم بھی ہو سکتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مشال خان کے وکیل فضل خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ انھیں عدالت کی جانب سے نوٹسز جاری کیے بغیر ضمانت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں دفاع کا موقع فراہم کیا جاتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں دائر کئے گئے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ پشاور ہائی کورٹ ہی کر سکتی ہے نہ کہ ایبٹ آباد بنچ۔
فضل خان کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں جس میں وہ سمجھتے ہیں کہ قانونی طور پر اس میں ضمانت نہیں ہو سکتی۔
مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو گذشتہ برس یونیورسٹی کے طلبا اور عملے کے کچھ ارکان پر مشتمل مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔
حال ہی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمۂ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، پانچ کو عمرقید اور 25 کو چار چار برس قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا جبکہ 26 افراد کو بری کر دیا گیا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے کے خلاف مشال خان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے جس میں ملزمان کی بریت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مشال خان کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے افراد کے حق میں مردان میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں جبکہ بری ہونے والے افراد کے لیے خیرمقدمی جلوس نکالے گئے ہیں۔