سینیٹ انتخابات 2018: پنجاب میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب، سندھ میں پیپلز پارٹی کی برتری
پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ15 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور ان آزاد امیدواروں کی مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت کے بعد وہ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے۔
سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کے پہلے سے 18 اراکین موجود ہیں اور نئے اراکین کی شمولیت کے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کی مجموعی تعداد 33ہو جائے گی۔
ان انتخابات سے قبل سینٹ کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ دوسری نمبر پر چلی گئی ہے تاہم وہ اعدادوشمار کے برعکس کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سینیٹ میں پاکستان پیپیلز پارٹی کے پرانےاراکین کی تعداد آٹھ تھی اور اب 12 نئے امیدوار کی جیت کے بعد سینیٹ میں اُن کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
غیر حتمیٰ اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ میں مجموعی نشستیں 12 ہو گئی ہیں جبکہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم صرف ایک نشست لینے میں کامیاب ہوئی ہے۔
پنجاب کے نتائج
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 12 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 11 نشستیں جیت لی ہیں اور آخری نشست پر پی ٹی آئی کے چوہدری سرور کامیاب ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ چوہدری سرور کا تعلق پہلے مسلم لیگ ن سے تھا اور وہ پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔
پنجاب اسمبلی سے پاکستان مسلم لیگ ن کے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں کامران مائیکل، آصف کرمانی، رانا مقبول، اسحاق ڈار، حافظ عبد الکریم، مصدق ملک، سعدیہ عباسی، خالد شاہین بٹ، ہارون اختر، زبیر گل، نزہت صادق شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں 368 اراکین نے ووٹ ڈالے اور یہ 100 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
سندھ کے نتائج
ادھر سندھ اسمبلی سے جنرل سیٹوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امام الدین شوقین، مولا بخش چانڈیو، رضا ربانی، مصطفی نواز کھوکھر، اور محمد علی شاہ جاموٹ جبکہ ایم کیو ایم کے فروغ نسیم اور مسلم لیگ فنکشنل کے مظفر حسین شاہ کامیاب رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سکندر مانڈرو، رخسانہ زبیری ٹیکنوکریٹ سیٹوں پر جبکہ قرۃ العین ماری اور کرشنا کماری خواتین کی سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔ اقلیتی سیٹ پر پیپلز پارٹی کے ہی انور لعل دین جیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بلوچستان کے نتائج
ان انتخابات میں بلوچستان اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن، دونوں کی ہی توجہ کا مرکز رہی ہے کیونکہ وہاں پر مسلم لیگ ن میں بغاوت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان سے سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے 6 پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔
بلوچستان سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں پر چار آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں انوارالحق کاکڑ، کہدہ بابر، صادق سنجرانی اور احمد خان شامل ہیں۔
باقی تین جنرل نشستوں پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار شفیق ترین، جے یو آئی ایف کے مولوی فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے اکرم بلوچ کو کامیابی ملی۔ خواتین کی دو نشستوں پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی عابدہ اور آزاد امیدوار ثنا جمالی نے کامیابی حاصل کی جبکہ ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نصیب اللہ کو کامیابی ملی۔
یہ بھی پڑھیے
خیبر پختونخوا کے نتائج
نامہ نگار عزیز اللہ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اب تک ایک جنرل، ایک خواتین اور ایک ٹیکنو کریٹ سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق اور انیسہ زیب کامیاب نہیں ہو سکے۔
خواتین کی دو نشستوں پر تحریک انصاف کی مہرتاج روغانی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کامیاب ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خیبر پختونخوا میں صوبے کی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد قائم ہوئے تھے۔ ان میں تحریک انصاف اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کے درمیان اتحاد تھا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ اتحاد کیا تھا تو ادھر عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کی باتیں ہو رہی تھیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد تو ایک سو چوبیس ہے لیکن پی ٹی آئی کے ایک رکن بلدیو کمار نے اب تک حلف نہیں لیا جبکہ عبدامنعم کو نااہل قراد دیا جا چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلر پارٹی عوامی مقبولیت کھو چکی ہے لیکن جوڑ توڑ کی سیاست میں مہارت رکھتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف پنجاب سے تعلق رکھنے والے فیصل جاوید کو بھی خیبر پختونخوا اسمبلی سے کامیاب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
ٹیکنو کریٹس کی سیٹ پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے دلاور خان اور جنرل سیٹ پر پیر صابر شاہ کامیاب ہوئے ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے طلحہ محمود بھی کامیاب ہوئے ہیں۔
اسلام آباد اور فاٹا کے نتائج
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تنائج کے مطابق فاٹا کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمان اور مرزا محمد آفریدی ہیں۔ فاٹا سے 11 اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا تاہم ان میں سے 7 اراکین نے ووٹ ڈالے۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تحفظات کے پیشِ نظر ووٹ نہیں ڈالے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کی دو سیٹوں میں سے جنرل سیٹ پر اسد علی خان جونیجو اور ٹیکنوکریٹ سیٹ پر مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے ہیں۔
پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔
ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ان انتخابات میں اپنے ووٹ نہیں ڈالے۔
سینیٹ میں نئے اور پرانے چہرے

سینیٹ کے ان اتخابات کے بعد پاکستانی سیاست کے بعض بڑے نام پارلیمانی سیاست سے باہر ہو جائیں گے اور بہت سے نئے چہرے بھی سینیٹ میں سامنے آئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر ترین رہنما اعتزاز احسن، فرحت اللہ بابر، تاج حیدر، عوامی نشینل پارٹی سندھ کے رہنما شاہی سید اور الیاس بلور بھی سینیٹ کے رکن نہیں رہیں گے۔
ان انتخابات کے بعد سینیٹ میں بعض نئے چہرے بھی دکھائی دیے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے تھر کے ایک ہندو متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن کرشنا کماری کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے۔
دوسری جانب ن لیگ نے سندھ پولیس کے سابق سربراہ اور کئی حوالوں سے متنازع شخصیت رانا مقبول اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن سعدیہ عباسی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا تھا لیکن اب عدالت کے فیصلے کے بعد اب وہ آزآد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔
تحریک انصاف نے بھی اس بار کچھ نئے لوگوں کو پارلیمان کا رکن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں فیصل جاوید بھی شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام












