آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشلستان: ’موقع مت دو انصاف كرو بابا‘
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں ان دنوں جلسے جلوسوں کے سیاسی ٹرینڈز کے ساتھ ساتھ پشتون لانگ مارچ کا ٹرینڈ بهی اپنے کامیاب دهرنے کے ساتھ اختتام پر پہنچا۔ گذشتہ دنوں فوج کے تعلقاتِ عامہ کے سربراە نے اعلان کیا بدنام ’وزیرستان ویزا‘ نامی وطن کارڈ کی اب ضرورت نہیں اور ان کے لیے باقی پاکستانیوں کی طرح ان کا قومی شناختی کارڈ ہی کافی ہے۔
مگر ہم آج فاٹا کے عوام اور پشتون لانگ مارچ کے شرکا کے بنیادی مطالبے پر بات کریں گے جو نقیب اللہ محسود کے قاتل کے بارے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ نے جمعے تک راؤ انوار کو پیشی کے لیے مہلت دی تهی اور ان کو حفاظتی ضمانت فراہم کر کے عدالت کے روبرو پیش ہونے کا کہا تها مگر آج راؤ انوار کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے راؤ انوار کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تبصروں اور کمنٹس کا سلسلہ جاری ہے۔
راؤ انوار کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے موقعے پر کراچی سے ابو حمزە نے سوال کیا کہ ’چیف صاحب کیا ایسا موقعے والا قانون عام پاکستانیوں کے لیے بھی ہے یا کہ صرف باوردی دہشتگرد کے لیے ہی ؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قیصر جاوید نے سوال کیا کہ ’قانون ایک قاتل کے لیے اتنی آسانی اور سہولت پیدا کر رہا ہے؟‘
چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس پر افراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ ’چیف جسٹس صاحب نے آج کہا کہ ان کی راؤ انوار سے ہمدردی ختم ہو گئی ہے لگتا ہے ابھی ریاستی اداروں میں اس کے ہمدرد موجود ہیں جنھوں نے اسے چھپایا ہوا ہے، سینکڑوں بے گناہ افراد کے قاتل راؤ انوار کے خلاف مقدمہ بڑے مافیا کو بے نقاب کر دے گا اسی لیے معاملہ لٹکا ہوا ہے۔‘
جبکہ محمد ریاض نے لکها کہ ’چیف جسٹس صاحب نے سوچ سمجھ کر یہ الفاظ ادا کیے ہیں پھر قاتل راؤ انوار واقعی آئین اور قانون سے بالاتر کوئی شخصیت ہے اور نقیب اللہ محسود سمیت 440 مقتولوں کے لواحقین اپنے اعلیٰ ادارے کی بے بسی ملاحظہ کر لیں۔۔۔افسوس صد افسوس۔‘
رحیم خان ناصر نے نقیب اللہ محسود کو انصاف فراہم کرنے کی بات کرتے ہوئے لکھا: ’موقع مت دو انصاف كرو بابا۔‘
عدالت کی جانب سے توہینِ عدالت کے نوٹس پر عامر مغل نے لکھا کہ ’جب اعلیٰ عدلیہ خود اپنی ہتک اور توہین پر آمادہ ہو تو پھر شکایت کیسی؟ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی کہ دو دن میں کرو تین دن میں کرو، کمرے میں بیٹھ کر حکم جاری کرنا اور قانون کو عملی طور پر نافذ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘
جبکہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ راؤ انوار کے بیان پر تبصرہ لکھ رہے ہیں کہ ’سابق ایس ایس پی راؤ انوار کہتے ہیں ان کو پولیس پر یقین نہیں ہے تو کیسے ایک عام آدمی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پولیس پر اعتماد کرے۔‘
اس ہفتے کی تصاویر
سوات سے قبل خوازہ خیلہ کے قریب گاڑیوں کی تلاشی سے قبل طویل قطار جو حالیہ دنوں میں سکیورٹی سخت ہونے کے بعد سے شروع کی گئی۔
مظفرآباد میں ہٹیاں بالا کے مقامی کالج کے پروفیسر جمیل حسین کو مقامی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر احتجاج کیا گیا۔