مطالبات اور مقصد میں واضح قبائلی مظاہرین
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد میں 2013 میں علامہ طاہرالقادری کی قیادت میں 'انقلاب دھرنے' میں، میں نے 20 مختلف افراد سے پوچھا کہ وہ کون سا انقلاب لانے کے لیے جمع ہیں۔ پندرہ اس سے لاعلم تھے، جبکہ تین کو انقلاب کا مطلب نہیں پتہ تھا اور ایک خاتون مجھ ہی سے الجھ پڑیں کہ میں اس قسم کے 'گمراہ کن' سوال کیوں پوچھ رہی ہوں۔ تاہم دھرنا ختم ہونے کے بعد ان سب نے جشن منایا تھا کہ کوئی انقلاب آ گیا ہے۔
لیکن اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے قبائلیوں کا دھرنا مختلف نوعیت کا ہے۔ اس میں قبائلی علاقوں کے نوجوان، بزرگ، بچے سبھی شامل ہیں اور ماضی میں ہونے والے دیگر کئی دھرنوں کے برعکس یہاں لگ بھگ سبھی جانتے ہیں کہ آخر یہ دھرنا اور احتجاج ہو کیوں رہا ہے؟
یہ سینکڑوں افراد جمعرات کو ریلیوں کی شکل میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان سب کا ایک ہی مطالبہ ہے 'نقیب اللہ محسود کے قاتل ایس ایس پی راؤ انوار کو گرفتار کرو' اور 'خون کا بدلہ خون ہے'۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
پریس کلب کے سامنے میدان میں ایک خیمہ لگا ہے، جس میں قالین اور چٹائیاں بچھائی گئی ہیں۔ جگہ جگہ بینرز لگے ہیں، جن پر نقیب اللہ محسود کی تصاویر اور مبینہ قاتل کی گرفتاری اور سزا کے مطالبے درج ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھرنے کے شرکا سے بات کر کے اندازہ ہوتا ہے کہ نقیب اللہ محسود کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر قبائلی علاقوں کی عوام میں کس قدر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ کسی طور احتجاج ختم کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

ان مظاہرین میں شمائل محسود شامل ہیں جن کی عمر لگ بھگ 14 سال ہے۔ ان کے بارہا اپنی جانب متوجہ کرنے کے بعد انھوں نے کہا 'ہمارا مطالبہ چیف جسٹس سے ہے کہ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ان کی ٹیم کو گرفتار کر کے پھانسی دی جائے، یہ شخص 440 جانوں کا مقروض ہے'۔
یہیں ایک بزرگ نور خان بھی ملے جو بتا رہے تھے کہ قبائل اب تک صبر و تحمل سے کام لیتے رہے ہیں مگر اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، 'یہ صرف قبائل کی جنگ نہیں، ہم اس ملک کے ہر مظلوم کے آواز بن رہے ہیں'۔
وہ کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے عوام کو ملک میں ہر جگہ نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔
مطالبات میں انصاف بھی اور حقوق بھی
یہ مظاہرین صرف نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کا ہی مطالبہ لے کر جمع نہیں ہوئے، بلکہ اپنے حقوق بھی مانگ رہے ہیں۔

اکبر محسود (فرضی نام) قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نالاں ہیں اور شکوہ کر رہے ہیں کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق تک میسر نہیں۔
'کہیں چیک پوسٹ پر دھماکہ ہو جائے تو پورا گاؤں چیک کیا جاتا ہے، تضحیک کی جاتی ہے، جگہ جگہ ہمیں ہمارے ہی علاقوں میں روکا جاتا ہے، ہر دس قدم پر ہمیں اپنی شناخت کرانا پڑتی ہے۔ کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں'۔
مظاہرین کے دیگر مطالبات میں قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کا صفایا اور لاپتہ افراد کی بازیابی بھی شامل ہیں۔
یہاں موجود عتیق الرحمان نامی شہری نے کہا کہ ' نقیب اللہ کی طرح ہمارے علاقوں کے بہت سے نوجوان قتل یا غائب ہوئے ہیں جن کی بازیابی اور تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے'۔
اس دھرنے میں شرکا یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ انہیں مقامی میڈیا میں مناسب کوریج نہیں دی جا رہی لیکن فاٹا کے نوجوانوں نے بظاہر اس مسئلے کا حل بھی نکال لیا ہے۔
موبائل فون سے ویڈیو بناتے ہوئے ایک نوجوان اعظم داوڑ کہتے ہیں 'ہمارے پاس سوشل میڈیا موجود ہے، اور ہم اسی کے ذریعے اپنی آواز عدلیہ تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں'۔










