آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی: پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں برآمد
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ کے صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہیں۔
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان کے سر پر گولیاں لگی ہیں اور مزید تفصیلات پوسٹ مارٹم اور تفتیش کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔
ایس ایس پی راجہ عمر خطاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر ہزار بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ان کی خواب گاہ سے متصل کمرے یا لاؤنج میں موجود تھیں اور ان کے پوسٹ مارٹم اور فورینزک کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میر ہزار بجارانی کو ایک گولی لگی ہے جبکہ کمرے سے اسلحہ اور چار ایسے خول بھی ملے ہیں جو مس فائر ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق ’کمرے میں بہت زیادہ خون پڑا ہے اور شواہد جمع کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔‘
صوبائی وزیر کی ہلاکت کی اطلاع ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال میر ہزار خان بجارانی کی رہائش گاہ پہنچے تاہم دورے کے بعد وہ میڈیا سے کوئی بات کیے بغیر روانہ ہو گئے۔
تاہم صوبائی وزیر منظور وسان نے میڈیا سے بات کی اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ کہیں میر ہزار خان نے خودکشی تو نہیں کی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ ’وہ انتہائی شفیق اور پیار کرنے والا شخص تھا ان کی زبان سے کبھی ایسا منفی لفظ نہیں سنا گیا جو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہو۔‘
انھوں نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ میر ہزار خان ذہنی دباؤ میں تھے۔ منظور وسان کے مطابق گذشتہ روز ہی وہ کابینہ کے اجلاس میں ساتھ تھے اور ’ایسا کچھ نہیں تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
72 سالہ میر ہزار خان بجارانی کا تعلق سندھ کے ضلع کشمور سے تھا۔ وہ طالبعلمی کے زمانے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ انھوں نے بحالی برائے جمہوریت کی تحریک کے دوران گرفتاری بھی دی اور کئی ماہ جیل میں رہے۔
میر ہزار خان اپنے سیاسی کریئر کے دوران چار بار رکن قومی اسمبلی، تین بار رکن صوبائی اسمبلی اور ایک بار سینیٹ کے رکن رہے۔ وہ وفاقی وزیر دفاع اور وزیر ریلوے رہے، جبکہ ان دنوں وہ صوبائی وزیر منصوبہ بندی کے منصب پر فائز تھے۔
میر ہزار کی اہلیہ فریحہ رزاق بھی 2002 کو خواتین کے لیے مختص نشستوں سے رکن صوبائی اسمبلی رہیں۔ وہ صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہ چکی ہیں۔
ان کے بیٹے شبیر بجارانی بھی رکن قومی اسمبلی ہیں۔
میر ہزار خان کی ہلاکت پر کندھ کوٹ شہر اور ان کے آبائی قصبے کرمپور میں کاروبار زندگی معطل ہو گیا ہے۔
ان کی ہلاکت کی خبر عام ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے تعزیتی پیغامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر عبدالقیوم سومرو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں میر ہزار خان بجارانی کی موت کو پیپلزپارٹی کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی ٹوئٹر پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے تجربہ کار سیاست دان میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی اچانک ہلاکت کی خبر سے انھیں دھچکا لگا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں ہلاک شدگان ک کی مغفرت اور لواحقین کے صبر کے لیے بھی دعا کی۔