فرانسیسی کوہ پیما خاتون نانگا پربت سے ریسکیو کے بعد اسلام آباد میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں سے ایک نانگاپربت پر پھنسی ایک فرانسیسی خاتون کو ایک ڈرامائی ریسکیو آپریشن کے بعد اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے۔
تاہم الزبتھ ریول کے پولش کوہ پیما ساتھی کی تلاش ختم کر دی گئی ہے۔
ریول اور ٹوماس میکیاوچ 8126 میٹر (26660 فٹ) بلند نانگاپربت کو سردیوں کے موسم میں سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جمعے کے روز 7400 میٹر کی بلندی پر پھنس کر رہ گئے۔
قریب ہی واقع کے ٹو سر کرنے میں کوشاں ایک پولش کوہ پیما ٹیم ان کی مدد کے لیے آ پہنچی اور انھوں نے رات بھر نانگا پربت پر چڑھ کر ریول کو بازیاب کروا لیا۔
ریول کے ایک دوست لوڈوک گیامبیاسی نے اتوار کو فیس بک پر لکھا: 'الزبتھ اسلام آباد کے ہسپتال میں ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پیر پالے سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔‘
نانگا پربت نویں بلند ترین چوٹی ہے اور اسے دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا ایک نام قاتل چوٹی (کِلر ماؤنٹین) بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستانی فوج کی مدد
پولینڈ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم موسمِ سرم میں پہلی بار دنیا کے دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ انھیں نانگا پربت پر کوہ پیماؤں کے گم ہونے کی خبر ملی۔
انھیں پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر نانگا پربت تک لے آیا اور انھیں گمشدہ کوہ پیماؤں کے آخری معلوم مقام سے ایک ہزار میٹر نیچے چھوڑ دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈینس اروبکو اور ایڈم بیالیکی نے گھٹاٹوپ تاریکی میں چڑھنا شروع کیا جب کہ یاروسلاو بوٹور اور پیوٹر ٹومالا نے کیمپ بنانا شروع کر دیا۔
ریول کو تلاش کرنے کے بعد انھیں نیچے کیمپ تک لے کر آنا بےحد مشکل ثابت ہوا اور اس خطرناک سفر میں ساڑھے پانچ گھنٹے لگے۔
اتوار کی صبح کوہ پیما ٹیم کے فیس بک صفحے پر اعلان کیا گیا: 'الزبتھ ریول مل گئیں۔'
انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔
دوسر ے گمشدہ ساتھی
میکیاوچ ریول سے بچھڑ گئے تھے۔ وہ بھی پالے اور برفانی اندھے پن سے متاثر ہوئے تھے۔
گیامبیاسی نے لکھا: 'بدقسمتی سے میکیاوچ کو بچانا ممکن نہیں تھا۔ موسم اور بلندی کی وجہ سے ان کو بچانے والی ٹیم کی جانوں کو سخت خطرہ درپیش تھا۔
'یہ انتہائی مشکل اور سخت فیصلہ تھا۔ ہم سخت غمزدہ ہیں۔ ہم رو رہے ہیں۔ ان کے خاندان کے ہماری نیک تمنائیں۔'
ان دو کوہ پیماؤں کی بازیابی کے لیے لوگوں نے دسیوں ہزار ڈالر کی رقم بطور چندہ جمع کروائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO/JASMINE TOURS








