زینب کیس: ملزم عمران علی کے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی

عمران علی

،تصویر کا ذریعہPFSA

،تصویر کا کیپشنپولیس نے 14 دن کی تحقیقات کے بعد زینب کے محلے دار عمران علی کو اس مقدمے میں گرفتار کیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قصور کی سات سالہ بچی زینب سے جنسی زیادتی اور اس کے قتل کے ملزم عمران علی کے مبینہ بینک اکاؤنٹس کے بارے میں الزامات سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے زینب کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں دو ارکان کا اضافہ کیا ہے اور اب پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک نمائندہ بھی اس کا رکن ہوگا اور یہ ٹیم اب ان اکاؤنٹس کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

عمران کے بینک اکاؤنٹس کا معاملہ جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹھا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ از خودنوٹس بدھ کی شب ایک نجی ٹی وی چینل ’نیوز ون‘ پر زینب قتل کیس سے متعلق ایک پروگرام پر لیا تھا۔ اس پروگرام کے میزبان شاہد مسعود کو جمعرات کے روز عدالت میں طلب کیا گیا اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس ازخودنوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عمران کا تعلق ایک بین الاقوامی گروہ سے ہے جو فحش فلمیں بناتا ہے۔ اُنھوں نے عدالت میں غیر ملکی بینکوں میں 37 اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی پیش کی تھیں جو ان کے بقول ملزم عمران علی کے ہیں۔

سماعت کے دوران اس پروگرام کے میزبان نے عدالت کو بتایا کہ ایک وفاقی وزیر کا تعلق بھی ملزم کے ساتھ ہے۔ جب عدالت نے شاہد مسعود سے اس وفاقی وزیر کا نام پوچھا کہ تو اُنھوں نے کہا کہ وہ کھلی عدالت میں ان کا نام نہیں بتاسکتے تاہم شاہد مسعود نے ایک پرچی پر اس وفاقی وزیر کا نام لکھ کر چیف جسٹس کو پیش کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

عدالت کے استفسار پر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزم عمران علی کا تعلق ایک بین الاقوامی گروہ سے ہے اس لیے اُنھیں شک ہے کہ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد ملزم کو پولیس کی تحویل میں ہی قتل کروا دیں گے۔

عدالت نے اس ضمن میں پنجاب پولیس کے سربراہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر ملزم کو کوئی جانی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان دونوں افسران پر ہوگی۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی وساطت سے حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کے مبینہ طور پر ان غیر ملکی اکاونٹس کے بارے میں بھی تحقیقات کر کے عدالت کو آگاہ کریں۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کو زینب قتل کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہوئے چالان پیش کیے جانے کے بعد سات دن میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔

زینب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسات سالہ زینب انصاری کو رواں ماہ کے آغاز میں قصور میں ان کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا اور چند دن بعد ان کی جنسی تشدد زدہ لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق یہ ہدایت لاہور ہائی کورٹ کے ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جیوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جمعرات کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج شیخ سجاد احمد کو لکھے گئے خط میں جاری کی گئی ہے۔

ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ زینب قتل کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے اور اس کا فیصلہ قانون کے مطابق چالان پیش کیے جانے کے بعد سات دن میں یقینی بنایا جائے۔

سات سالہ زینب انصاری کو رواں ماہ کے آغاز میں قصور میں ان کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا اور چند دن بعد ان کی جنسی تشدد زدہ لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔

پولیس نے 14 دن کی تحقیقات کے بعد ان کے محلے دار عمران علی کو اس مقدمے میں گرفتار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ملزم زینب کے علاوہ دیگر سات بچیوں سے جنسی زیادتی اور ان میں سے چار کے قتل کی واردارتوں میں بھی ملوث ہے۔