افغان مہاجرین: 'پاکستان چھوڑنا ایسا ہے جیسے اپنے ملک سے جانا ہو‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’جو خاندان چار دہائیوں تک ایک دوسرے ملک میں مقیم رہے ان کےلیے وہی ملک اپنی وطن کی حیثیت اختیار کر لیتاہے اور پاکستان کو چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے ملک سے ہجرت کرنی ہو۔'
یہ الفاظ افغان باشندے حاجی ولایت خان کے ہیں جو گذشتہ چالیس برس سے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں مقیم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ نوجوان تھے جب انھوں نے افغانستان سے پاکستان ہجرت کی لیکن اب وہ بوڑھے ہوچکے ہیں۔
57 سالہ ولایت خان کا تعلق پاکستان کے سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار سے ہیں۔ اگرچے ان کی پیدائش سرحد پار ہوئی لیکن ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ یہاں گزرا ہے۔ انھوں نے 1979 میں اس وقت ہجرت کی جب افغانستان میں ان کے گھر پر روسی طیاروں کی طرف سے بمباری کی گئی۔
ہجرت کے تلخ یادوں کو بیان کرتے ہوئے ولایت شاہ نے کہا کہ افغانستان میں ان کے مکان کو اس وقت کے افغان مجاہدین نے اپنا مرکز بنایا ہوا تھا جہاں ہر دوسرے دن روسی طیارے بمباری کیا کرتے تھے۔
ولایت خان کہتے ہیں کہ 'ایک رات ہمارے گاؤں پر شدید بمباری ہوئی جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے لیکن اس واقعے کے دوسرے ہی دن ہم نے پاکستان کی طرف ہجرت کی۔'
تین دنوں تک وہ پہاڑوں پر سخت موسمی حالات میں پیدل سفر کرتے ہوئے پاکستان کے حدود میں داخل ہوئے، بچے، خواتین اور بوڑھے بھی ان کے ہمراہ تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ' وہ دردناک منظر تھا، خواتین اور بچوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں ایک ایک جوڑے میں گھر بار چھوڑا ، کسی کو اپنا منزل مقصود معلوم نہیں تھا بس ہر کوئی بمباریوں سے بھاگ کر پاکستان کی طرف دوڑ رہا تھا۔'
انھوں نے کہا کہ ابتدائی تین ماہ ان کے انتہائی مشکل میں گزرے لیکن پھر بڑے بڑے مہاجر کیمپ بنے جو ان جیسے دیگر تمام پناہ گزینوں کےلیے ایک نیا تجربہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حاجی ولایت خان کے بقول پاکستان آکر انہیں ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ کسی دوسرے ملک آئے ہیں کیونکہ یہاں کے عوام نے اس وقت افغان مہاجرین کے ساتھ انتہائی اچھا برتاؤ کیا اور ہر جگہ نہ صرف ان کا تپاک طریقے سے استقبال کیا گیا بلکہ ان کے لیے اپنے ہجروں کے دروازے تک کھول دیے گئے۔

کئی مہاجر خاندان مہینوں تک پاکستانی بھائیوں کے حجروں میں مفت رہائش پذیر رہے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتے رہے۔
'اس وقت لوگوں میں مصیبت کے مارے ہوئے افغان باشندوں کے لیے درد تھا اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ ہمارے ساتھ اس مشکل گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ افغان عوام پاکستانی بھائیوں کی نیکی اور احسانات کو رہتے دم تک کبھی بولا نہیں سکتے۔
ان کے بقول اگرچہ پاکستان ان کا اپنا ملک نہیں ہے لیکن دونوں ممالک کے عوام اتنے مضبوط اسلامی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں کہ انہیں کوئی ساری زندگی جدا نہیں کرسکتا۔
انھوں نے کہا کہ ہجرت کے بعد تقربباً چالیس ہزار سے زیادہ افغان اور پاکستانی شہریوں نے آپس میں رشتے کئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کتنے ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
ولایت خان نے دو شادیاں کیں ہیں اور ان کی بارہ بیٹے بیٹیاں ہیں جبکہ ان سب کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہیں۔ ان کے ایک بیٹے نے پاکستانی خاتون سے شادی کی ہے۔ ولایت خان تقریباً پندرہ سال تک ایک افغان سکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے رہے جبکہ آجکل وہ گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔وہ خیبر پختونخوا میں افغان باشندوں کے شورای کے اہم رکن بھی ہیں۔
' میرے تمام بچے یہاں پیدا ہوئے، تعلیم حاصل کی اور اب کاروبار بھی یہاں کررہے ہیں ایسے میں ان کےلیے اس ملک سے جانا اتنا آسان نہ ہوگا۔'
انھوں نے کہا کہ ان کے بچوں کا قانونی حق بنتا ہے کہ انھیں پاکستان کی شہریت دی جائے لیکن انہیں انکار کیا گیا ہے۔
ولایت خان نے الزام لگایا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں پناہ گزینوں کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں اور وہ اس تنازعے میں پھنس کررہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے افغان شہریوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ان کو پانچ سال کے ویزے جاری کیے جائیں گے جبکہ افغان حکومت نے پانچ سال کے پاسپورٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آ ج تک کسی حکومت نے اپنا وعدہ ایفا نہیں کیا۔








