پاک افغان سرحد چار روز سے بند

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سرحدی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد پاک افغان سرحد گذشتہ چار دنوں سے بند ہے جس سے سرحد کے دونوں طرف سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہے جبکہ لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
کرم ایجنسی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاک افغان سرحد بعض سکیورٹی خدشات کے باعث بند کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جمعے کو پاکستان کی سرحدی چیک پوسٹ خرلاچی پر افغان علاقے سے حملہ کیا گیا تھا لہذا جب تک سرحد پار سے آئندہ اس قسم کے حملوں کے تدارک کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک سرحد نہیں کھولی جائیگی۔
سرکاری اہلکار کے مطابق اس قسم کی اطلاعات اب بھی ہیں کہ سرحدی گیٹ پر پھر سے حملے کے خدشات ہیں اس لئے باڈر کے دونوں جانب آمدورفت معطل کردی گئی ہے۔
پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث گیٹ کے دونوں جانب سینکڑوں مال بردار گاڑیوں اور سامان سے لدے کنٹینروں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جس سے تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کے ایک تاجر حاجی جمال حسین نے کہا کہ بارڈر کی بندش کے باعث تاجروں کو نہ صرف روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے بلکہ گاڑیوں میں لدا ہوا ان کا سامان بھی خراب ہوچکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ چار دنوں سے سرحد کے دونوں طرف سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں جس میں کروڑوں روپے کے کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان موجود ہے جو اب استعمال کے قابل نہیں رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق راستہ بند ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں سرحد سے واپس پارہ چنار شہر اور دیگر علاقوں کی طرف پہنچی ہیں تاہم درجنوں مال بردار گاڑیاں اب بھی بارڈر کے دونوں جانب موجود ہیں۔
حاجی جمال حسین کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے پہلے محرم الحرام کے باعث بھی پاک افغان سرحد چار دن کےلیے بند کردی گئی تھی تاہم جس دن سرحد کھولی گئی اسی دن خودکش حملہ رونما ہوا جس کے بعد دوبارہ گاڑیوں کی آمد ورفت بند کردی گئی اور اس طرح چھ دنوں سے سرحد کے آر پار تمام راستے بند ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ادھر بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد کو غیر معینہ مدت تک کےلیے بند کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے خرلاچی اور بورکی کے مقامات پر واقع سرحدی دروازوں کے آس پاس باڑ لگانے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
خیال رہے کہ چار دن قبل کرم ایجنسی میں واقع پاک افغان سرحدی چیک پوسٹ خرلاچی پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قبائلی علاقوں میں گذشتہ کچھ دنوں سے سرحد پار سے ایک مرتبہ پھر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔
اتوار کو جنوبی وزیرستان میں سرحد پار سے پاکستانی سرحدی چوکی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی بعض کالعدم تنظیموں کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔









