’بے اصولی پر بات کرنے کو ہم ہر وقت تیار ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کاشف قمر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے ذکر پر مرزا ظاہر دار بیگ یاد آجاتے ہیں ۔۔ جی ہاں وہی ڈپٹی نذیر احمد والے کلاسیکی اردو ادب کے مرزا ظاہر دار بیگ۔
جس طرح مرزا ظاہر دار بیگ ہر آنے والے کے سامنے اپنی فرضی امارت اور رئیسانہ شان کے قصے لے بیٹھتے تھے اور اپنی زبوں حالی کے لیے بہانے تراشتے تھے، کچھ وہی حالت پاکستان کی بھی ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بغور دیکھیں تو حالت امریکہ کی بھی کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔
مزید پڑھیئے
مثلاً پے درپے ڈرون حملوں کے بعد پاکستانی بیانات دیکھیے۔
'پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور ہماری بہادر افواج اِس طرح ملکی آزادی اور خود مختاری کو پامال نہیں کرنے دیں گی'۔
'پاکستانی فوج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے مکمل چوکس ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے مزاحیہ بیانات کے بعد مرزا ظاہر دار بیگ کی طرح پاکستانی ریاست بھی یہی سمجھتی رہتی ہے کہ نہ صرف باقی ساری دنیا نے پاکستان کے دعؤوں پر یقین کر لیا ہے بلکہ امریکہ اور اُس کے رنگا رنگ صدر بھی ملکی آزادی، خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی سے باز رہیں گے۔
بعض دفعہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ' ۔ ۔ ۔ اجازت نہیں دی جائے گی' اور '۔ ۔ ۔ غافل نہیں ہیں' جیسے بلند بانگ بیانات کے بعد سرگوشی میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 'مائی باپ آپ چاہیں تو بلا اجازت بھی جو چاہے کر لیجیے' اور ' ٹھیک ہے ہم کچھ نہیں کہیں گے بلکہ سچ پوچھے تو کہہ بھی نہیں سکتے'۔

،تصویر کا ذریعہMOFA Pakistan
لیکن سب سے دلچسپ بیان وہ ہوتا ہے جس میں امریکہ بہادر کو دو ٹوک جتلایا جاتا ہے کہ 'پاکستان اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘ لیکن سارا رویہ چلا چلا کر اعلان کرتا رہتا ہے کہ مائی باپ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر رہے تو کیا ہوا، بے اصولی پر بات کرنے کو تو ہم ہر وقت تیار ہیں ناں!
قرضوں میں جکڑا پاکستان امریکی امداد کی بندش پر خم ٹھونک کر امریکہ کو جتلا دیتا ہے کہ ہم خود دار قوم ہیں اور محض چند سو ملین ڈالر کے عوض ہماری عزت نفس کا سودا نہیں کیا جاسکتا (ہاں البتہ دام ہماری مرضی کے لگائیں تو اِس پر بھی بات کی جا سکتی ہے)۔
صدر ٹرمپ نے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کو نمک حلال نہ کرنے کا طعنہ دیا تو پاکستانی جواب بھی کم نہیں تھا (بقول وزیرخارجہ خواجہ آصف) حضور ٹکڑے تو آپ نے ڈالے لیکن مقدار درست نہیں بتا رہے ، کسی اکاؤنٹنٹ سے ہی مشورہ کر لیتے۔
فوجی ترجمان کا بیان مزید دلچسپ تھا کہ ہم کوئی کرائے کے سپاہی تھوڑا ہی ہیں۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کوئی خیرات نہیں تھی بلکہ آپ کی ہدایت پر کی گئی کارروائیوں کے اخراجات تھے۔ (اللہ جانے کرائے کا سپاہی اور کیا ہوتا ہے)
پاکستان کی خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی کہ ملک کا جغرافیہ اُسے افغانستان یا وہاں آ دھمکنے والی کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے لازم بنا دیتا ہے کہ اُس کے بغیر کام بن نہیں سکتا۔
لیکن امریکہ کی مشکل یہ ہے اُس کا کام پاکستان کے ساتھ بھی نہیں بن رہا۔ شاید اسی لیے جب دھمکی آمیز بیانات کو حقیقت کا روپ دینے کا وقت آتا ہے، دنیا کی اپنے تئیں واحد سپر پاور بھی کام صرف دھونس اور دھمکی سے ہی چلانے کی کوشش کرتی ہے۔ شاید اسی لیے مائیک پینس پاکستان کو نوٹس دینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ نوٹس پیریڈ ختم کب ہو رہا ہے اور اُس کے بعد کیا ہوگا۔
اور تو اور جب امداد کی معطلی کا حکم نامہ جاری ہوتا ہے تو اُس میں بھی استثنٰی کی گنجائش رکھ دی جاتی ہے کیونکہ بہرحال افغانستان میں پاکستان کی مدد تو چاہیے۔
لیکن خود ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ وٹے سٹے کی شادی جیسا مجبوری کا یہ تعلق دونوں کب تک نبھاتے رہیں گے۔ اپنی بوسیدہ ڈیوڑھی کو نوابین اودھ کے محلات کی چوکھٹ کہنے والے مرزا ظاہر دار بیگ کے دعؤوں پر کون اور کب تک یقین کرے گا؟









