پاکستانی فوج: ’پرویز مشرف اپنے بیان کی وضاحت خود زیادہ بہتر کر سکتے ہیں‘

آصف غفور

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوج میں کوئی ’روگ‘ یا منحرف عناصر نہیں ہیں اور سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت خود ہی کرسکتے ہیں۔

راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں آج کے فوجی سربراہ کی نمائندگی کرتا ہوں، پرویز مشرف کے بیان کی وضاحت وہ خود زیادہ بہتر کر سکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے بیان دیا تھا کہ ’بینظیر بھٹو کے قتل میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر ملوث ہوسکتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین وزیر خارجہ کے بیان کے بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ اچھا کام بھی کریں گے تو انڈین میڈیا اس کی مخالفت ہی کرے گا۔ اگر ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس (کلبھوشن جادھو) سے ملنے کی اجازت دی تو بھارت کو اسے سراہنا چاہیے تھا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان نے عالمی دباؤ میں کلبھوشن جادھو کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کسی بھی طرح کا عالمی دباؤ لیتا تو پھر اسے قونصلر رسائی دیتا۔

بریفنگ کے دوران انھوں نے بتایا کہ انڈیا ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے اور رواں سال لائن آف کنڑول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے 54 افراد ہلاک ہوئے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا پاکستان میں کوئی نیٹ ورک اب موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دفتر خارجہ بھی اپنے موقف سے امریکہ کو آگاہ کرچکے ہیں۔

ان کا اصرار تھا کہ اب پاکستان کو نہیں بلکہ افغانستان اور امریکہ کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مشرف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف نے بینیظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر کھا تھا کہ 'بینظیر بھٹو کے قتل میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر ملوث ہوسکتے ہیں'

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں یکطرفہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا تاہم وہ بتانا چاہتے ہیں کہ دوستوں سے تنازع نہیں چاہتے لیکن ملک کی سلامتی پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب پاکستان کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ ’ہم پیسے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے، ہم نے بہت کر لیا اب کسی کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔‘

بلوچستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے، دو ہزار سے زیادہ فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوشحال بلوچستان پروگرام کی تجویز پیش کی، جس کا ڈھانچہ چار نکات پر مشتمل ہے۔