پاکستان: کوئی بھی انڈین فوجی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل نہیں ہوا

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے انڈین میڈیا کے دعووں کے جواب میں کہا ہے کہ کوئی بھی انڈین فوجی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق پیر کو لائن آف کنٹرول کے رکھچکری سیکٹر میں ’انڈین فوج کی بلا اشتعال فائرنگ نے غیر ریاستی عناصر کو آئی ای ڈی نصب کرنے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔‘

اس واقعے کے بعد انڈین میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستانی فوجیوں پر حملہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر اور وزارت خارجہ نے انڈین میڈیا کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعل فائرنگ کے الزامات لگاتے رہتے ہیں

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ انڈین میڈیا کا یہ دعویٰ اسی بات کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کے یہ جھوٹے دعوے لائن آف کنٹرول پر امن کے لیے اچھے نہیں ہیں۔‘

پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے انڈیا کے نائب ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کا احترام کریں۔