ایم کیو ایم اور پی ایس پی: ایک نام اور ایک نشان

،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں نیا سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلا الیکشن ایک نام، ایک منشور اور ایک نشان سے لڑیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے آغاز میں مصافحہ کیا۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں کچھ بدنظمی ہوئی جس کے نتیجے میں پریس کانفرنس جو شام سات بجے ہونی تھی وہ آٹھ بجے شروع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد کا مقصد صوبہ سندھ میں ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے بچانا، عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کو ہر حال میں کامیاب بنانا اور امن کو دیرپا امن میں تبدیل کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اتحاد کے حوالے سے مشاورت گذشتہ چھ ماہ سے جاری تھی اور 'گذشتہ رات کو طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا'۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے اجلاس ہوں گے جن میں سیاسی اتحاد کے نام اور اپنے بیانیے کے حوالے سے مشاورت ہو گی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی جماعت کے کارکنان اور پی ایس پی کے کارکنان سے درخواست کی کہ وہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے مفاہمتی عمل اور پالیسی کے عملدرآمد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
انھوں نے کہا کہ اس سیاسی اتحاد میں سندھ کی شہری اور دیہی سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ اس اشتراک سے جو فضا قائم ہو گی اس سے امید ہے کہ 'ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے کارکنان کے خلاف چھاپے اور گرفتاریاں اگر بلا جواز ہیں تو یہ سلسلہ رک جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ ہماری جو پراپرٹی سیل ہیں وہ ہم کو واپس کر دی جائیں گی‘۔
پاکستان سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ایم کیو ایم الطاف حسین کی تھی، ہے اور رہے گی‘۔
'فاروق بھائی پی ایس پی کو نہ مانیں لیکن ہمارے سیاسی اتحاد کا آغاز کم از کم ایم کیو ایم کے نام سے نہیں ہو گا۔'
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ میں تین کروڑ افراد بستے ہیں جن میں مہاجروں کے علاوہ پٹھان، پنجابی اور بلوچ بھی ہیں۔ 'اگر میں مہاجر کے نام سے سیاست کروں گا تو میں سب سے زیادہ نقصان مہاجروں کا ہی کروں گا اور دوسری قومیتوں کو دور کر دوں گا۔'







