حسن اور حسین کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

حسین نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننواز شریف کے بیٹوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹوں کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ احتساب عدالت نے یہ احکامات قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر دیے۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ حسن نواز اور حسین نواز جنہیں متعقلہ عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے، اطلاعات کے مطابق عدالت میں پیش ہونے سے انکاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

line

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس درخواست میں ملزمان کے چھ مختلف کمپنیوں میں شیئرز کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ سیکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کی فہرست بھی لگائی گئی ہیں جن میں حسن نواز اور حسین نواز کے شیئرز ہیں تاہم ان شیئرز کی مالیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

دونوں ملزمان ایک مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے نہ صرف اُن کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے بلکہ اُنھیں اشتہاری قرار دینے کے لیے متعقلہ حکام کو کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا۔

حسن نواز اور حسین نواز 10 نومبر تک عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں احتساب عدالت اُن کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کرے گی۔

حسن نواز اور حسین نواز برطانوی شہریت کے حامل ہیں اس لیے حکمراں جماعت یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ وہ احتساب عدالت میں پیش ہوکر مقدمات کا سامنا کریں گے یا نہیں۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ تین نومبر کو احتساب عدالت میں پیش ہوں گے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اُن کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا جا رہا۔

احتساب عدالت نے گزشتہ دو سماعتوں میں پیش نہ ہونے پر اُن کی گرفتاری کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہوئے ہیں۔

8 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار اور نیب کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد 7 ستمبر کو قومی احتساب بیورو نے نواز شریف، اُن کے بچوں اور داماد محمد صفدر کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ 8 ستمبر کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیے گئے۔