’عمر خالد خراسانی کے ڈرون حملے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیرالحسن نے کہا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کے ڈرون حملے میں مارے جانے کی 'اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔‘
ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے ملک کے سیکریٹری دفاع نے کہا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی تصویر عمر خالد خراسانی کی نہیں۔ ان کے مطابق یہ تصویر 'طارق گیدڑ گروپ کے عمر نارائے کی تھی جو ماضی میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا'۔
واضح رہے کہ عمرخالد خراسانی کی ہلاکت کی خبریں مقامی ذرائع ابلاغ میں اس وقت سامنے آئی تھیں جب رواں ماہ کرم ایجنسی کے قریب پاکستان افغان سرحدی علاقے میں تین امریکی ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر مشتبہ شدت پسند تھے۔
پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ ڈرون حملہ افغانستان کی سرحد کے اندر کیا گیا تھا۔ تاہم بیان میں عمر خالد خراسانی یا کسی اور کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق سیکریٹری دفاع نے یہ بھی کہا کہ 'ہمارے اپنے ذرائع نے بھی خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔‘
انھوں نے کمیٹی اجلاس کے دوران کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے خود کو جماعت الاحرار کے ترجمان کے طور پر ظاہر کرنے والے اسد منصور نے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈرون حملے میں نو دیگر شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم افغانستان میں میڈیا نے جماعت الاحرار کے ذرائع سے ہلاکت کی تردید کی تھی۔
اس سے پہلے سنہ 2015 میں خراسانی مشرقی افغانستان میں نیٹو فورسز کی ایک فضائی کارروائی کے دوران زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ گذشتہ سال صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلشن اقبال پارک میں دھماکے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے جن میں 29 بچے شامل تھے۔ جماعت الاحرار نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تنظیم نے کوئٹہ میں ایک ہسپتال کے قریب دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل عمر خراسانی کی ہلاکت کی غیرمصدقہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
ماضی میں جماعت الاحرار خود کو تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی جماعت کے طور پر بھی بیان کر چکی ہے۔ جماعت الحرار کا آغاز پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً مہمند ایجنسی سے ہوا تھا۔
جماعت الحرار نے اس سال فروری میں ملک میں کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے 'غازی آپریشن' کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
لال مسجد اسلام آباد میں 2007 میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کا نام اس کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا جس پر بعد میں لال مسجد نے اعتراض بھی کیا تھا۔
جماعت الحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں شدت پسند کارروائیاں ترک کرتے ہوئے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیا تھا۔اس سال جولائی میں سلامتی کونسل نے جماعت الحرار پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔







