’عدالت نے ایمانداری کو دیکھنا ہے اکاؤنٹس آڈٹ نہیں کرنا‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو ان کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے کبھی بھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جو غیر قانونی ہو اور آف شور کمپنی کی تشکیل اور بیرون ملک جائیداد کی خریداری کے لیے جتنی بھی رقم بھیجی گئی وہ بینکوں کے ذریعے تھی جس پر ایف بی آر نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اس پر پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کسی کی ’بددیانتی جانچنے کے لیے اس کا ذہن نہیں بلکہ عمل دیکھا جاتا ہے۔‘
جہانگیر ترین کے وکیل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی کے لیے ادائیگی بذریعہ بینک کی گئی۔ سنہ 2011 میں جہانگیر ترین نے پچیس لاکھ پاؤنڈ بیرون ملک بھجوائے، دو ہزار بارہ میں پانچ لاکھ پاؤنڈ بیرون ملک بھجوائے دوہزار چودہ میں گیارہ لاکھ پاونڈ بیرون ملک منتقل کیے اور اس ضمن میں ٹرسٹ کو کی گئی تمام ادائیگیوں کا بینک ریکارڈ موجود ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ پلاٹ کو رہن رکھوا کر قرض بھی لیا گیا تھا اور دو ملین پاونڈ سے زائد کا قرض ای ایف جی بنک سے لیا گیا اور ابھی بھی قرض کی موجودہ رقم پندرہ لاکھ پاؤنڈز ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ بیرون ملک جائیداد سے کوئی آمدن نہیں ہو رہی جس پر سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا برطانیہ میں ہائیڈ ہاؤس جہانگیر ترین کا اثاثہ نہیں ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے اعتراض اُٹھایا کہ جہانگیر ترین کے وکیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس آف شور کمپنی کے لیے رقم بیرون ملک کیسے منتقل کی گئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رقم بینکوں کے ذریعے منتقل کی گئی اور اس میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کے اکاونٹ سے رقم شائنی ویو کو ہی منتقل ہوئی ہوگی جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ رقم ٹرسٹ کے بغیر ہی آف شور کمپنی کو بھجوائی گئی ہے۔ اس جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے صرف ایمانداری کو دیکھنا ہے اکاونٹس کا آڈٹ نہیں کرنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی قیادت موجود نہیں تھی اور صرف اس جماعت کے میڈیا سیل کے لوگ موجود تھے جبکہ اس کے برعکس وفاقی وزرا پوری عدالتی کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں بھی موجود تھے اور ان کے باڈی لینگویج سے لگ رہا تھا کہ وہ عدالت عظمیٰ سے کم از کم وقت میں عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی چاہتے ہیں لیکن سپریم کورٹ بظاہر ان درخواستوں کا فوری فیصلہ کرنے کو تیار نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت سات نومبر تک ملتوی کردی اس پر وفاقی وزرا نے دبے لفظوں میں میڈیا پر آکر اظہار بھی کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کیس میں تو اُنھیں چند گھنٹے دیے گئے جبکہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مقدمے میں ایسا نہیں کیا جارہا۔
سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود وکلا جہانگر ترین کے بارے میں مقامی میڈیا پر آنے والی سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی خبر پر تبصرہ کر رہے تھے جس میں جہانگیر ترین نے مبینہ طور پر اربوں روپے کی جائیداد اپنے گھریلو ملازموں کے نام پر کی ہوئی تھی جن کی خود اپنی تنخواہ چند ہزار روپے ہے۔
داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ ان ملازموں کے نام اتنی مہنگی جائیدادیں ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان ملازموں نے جہانگیر ترین کو بطور مالک رکھا ہوا ہے۔









