پاکستان میں درآمدی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ، کیا اس سے آپ کا بجٹ متاثر ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم نامے نے دوسرے ممالک سے منگوائی جانے والی 731 درآمدی مصنوعات کو مہنگا کر دیا ہے۔
حکومت نے درآمدی مصنوعات پر عائد ڈیوٹی اور مختلف ٹیکسوں کی شرح کو 10 سے 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔
حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد مکھن، پنیر، دہی، مچھلی، کاسمیٹک، شیمپو، بالوں کو رنگنے والے کلرز، کھیلوں کا سامان، درآمدی گاڑیوں، خشک میوہ جات، درامدی پھل اور سبزیاں، الیکٹرانک سمیت دیگر اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور ان ٹیکسوں سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا بلکہ یہ پر تعیش اشیا پر عائد کیا گیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بلاواستہ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کے بجائے بلواستہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔
دوسری جانب صارفین ضروری درآمدی اشیا پر مزید ٹیکس عائد کرنے پر نالاں ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے برآمدات کو بڑھانا چاہیے۔
یاد رہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات ساڑھے تین ارب ڈالر اور درآمدات نو ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ جولائی اور اگست میں مجموعی تجارتی خسارہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے جو گذشتہ سال سے 33 فیصد زیادہ ہے۔ جس سے روپے کی قدر میں اضافے کا خدشہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی








