خیبرپختونخوا سے لاپتہ ہونے والے صحافیوں کی واپسی

،تصویر کا ذریعہIslam Gul Facebook
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا سے اتوار کو لاپتہ ہونے والے دو صحافیوں کے اہل خانہ کے مطابق وہ پیر کی شام اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
سرگرم صحافتی تنظیموں نے اتوار کو بندوبستی علاقوں سے ان صحافیوں کی گمشدگی پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مقتدر قومی اداروں اور حکومت سے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
غیر ملکی ریڈیو سے وابستہ پشاور پریس کلب کے صحافی شاہ نواز ترگزئی کو اتوار کو ضلع چارسدہ کے علاقے شب قدر میں واقع صحافیوں کے ایک مرکز سے اغوا کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مغوی صحافی کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ سرکاری اہلکار میڈیا سنٹر آئے اور شاہ نواز ترگزئی کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
انھوں نے کہا کہ مغوی صحافی کے لیپ ٹاپ کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے تاہم صحافی کو لیجانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
خاندانی ذرائع نے پیر کی شام بی بی سی کو بتایا کہ میڈیا میں ان کی گمشدگی کی خبریں آنے کے بعد پیر کی شام شاہ نواز ترگزئی واپس گھر پہنچ گئے۔
تاہم ان کی واپسی کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے اتوار کو ہی غیر ملکی میڈیا سے منسلک قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیئر صحافی اسلام گل آفریدی بھی اسلام آباد سے پشاور آتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔
لاپتہ صحافی کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی اتوار کی شام سے پراسرار طورپر لاپتہ تھے اور پیر کو شام گئے اچانک واپس آ گئے ہیں۔
اسلام گل آفریدی کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ہے تاہم وہ گذشتہ کئی برس سے پشاور میں مقیم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہShahnawaz Taragzai
وہ پشاور کے مقامی اخبارات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا سے بھی منسلک رہے ہیں۔وہ 2010 میں بی بی سی کی سپیشل سیلاب نشریات میں پشتو سروس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔
پاکستان میں صحافیوں کی حقوق اور تحفظ کے لیے سرگرم نمائندہ تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے نمائندے اقبال خٹک نے صحافیوں کے لاپتہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر کاری ضرب قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بندوبستی علاقوں سے صحافیوں کا اغوا آئین اور قانون سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔
پیر کو پشاور کی صحافتی تنظیموں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے قتل و لاپتہ ہونے کے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا گیا۔
اجلاس میں کلب اور یونین کے صدور اور سینیئر صحافیوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صحافیوں کے مسائل کے بارے میں متعلقہ حکومتوں اور حکام بالا سے ملاقات کرے گی۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
چار دن پہلے ضلع صوابی میں ایک نجی ٹیلی ویژن سے وابستہ صحافی ہارون خان کو مسلح افراد نے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔
اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی تھی تاہم مقتول صحافی کے بھائی کی طرف سے سوتیلے بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔








