نواز شریف اور مریم پر فرد جرم 13 اکتوبر کو عائد کی جائے گی

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں پر تین مقدمات میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے جبکہ اس مقدمے میں ان کے دو بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کے آغاز کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے نیب کے حکام کو ملزمان کے خلاف اخبارات میں اشتہارات دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
عدالت نے ان دونوں ملزمان کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔
احتساب عدالت کے جج نے نیب کے پراسیکیوٹر کی درخواست پر حسن نواز اور حسین نواز کا مقدمہ الگ سے ٹرائل کرنے کی استدعا منظور کرلی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دائر ہونے والے تین ریفرنسز کی سماعت شروع کی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی بیوی کلثوم نواز کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی وجہ سے اُنھیں لندن جانا پڑا جس کی وجہ سے عدالت کو آگاہ نہیں کیا جا سکا۔
اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کو منظور کر لیا جائے اور اس کے علاوہ مقدمے کی کارروائی کو 15 روز کے لیے ملتوی کردیا جائے تاکہ نواز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہو سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPMO Office
عدالت نے سابق وزیر اعظم کی نو اکتوبر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو تو منظور کرلیا تاہم ان مقدمات کی سماعت کو 15 روز کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کو مسترد کر دیا گیا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان مقدمات میں دیگر ملزمان پر فرد جرم 13 اکتوبر کو عائد ہو گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ حسن نواز اور حسین نواز کو اس مقدمے سے الگ کر دیا گیا ہے اس لیے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد ہوگی۔
میاں نواز شریف کے خلاف تین ریفرنس دائر کیے گئے ہیں جن میں لندن فلیٹس، العزیزہ سٹیل مل اور آفشور کمپنیاں شامل ہیں۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر صرف لندٹ فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں نامزد ملزمان ہیں۔
اس سے پہلے مریم نواز احتساب عدالت میں پیش ہوئیں اور عدالت نے ان کو 50 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے حکم دیا جبکہ ان کے شوہر محمد صفدر کی ضمانت منظور کر لی گئی۔
یاد رہے کہ دو اکتوبر کو احتساب عدالت نے حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جبکہ مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

محمد صفدر کو رات کو ایئر پورٹ سے نیب نے گرفتار کیا تھا۔ نیب کے حکام کا دعویٰ تھا کہ اُنھوں نے عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ملزم کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو گرفتار کیا ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ ملزم نے خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔
پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف اور ان کا خاندان شدید ترین تحفظات کے باوجود عدالت میں پیش ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔'
ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی حسن نواز اور حسین نواز عدالت میں پیش ہونے سے متعلق خود فیصلہ کریں گے تاہم اس کے ساتھ اُنھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ چونکہ ان کے بھائی برطانوی شہری ہیں اس لیے ان پر پاکستانی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔








