نواز شریف کی دوسری پیشی، بیٹوں اور داماد کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بیٹوں کے خلاف عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
پیر کو سماعت کے دوران احتساب عدالت میں پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے قیام، العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹس کے حوالے سے ریفرنسز کی سماعت کی۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت سے قبل ہی رینجرز کے اہلکاروں نے جوڈیشل کملیکس کے مرکزی دروازے پر اپنی ڈیوٹی سنبھال لی تھی اور اُنھوں نے میڈیا کے ارکان سمیت کسی کو بھی کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی اسلام آباد نے تعیناتی کے لیے انہیں خط لکھا تھا لیکن اس پر انھوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ادھر احتساب عدالت نے آج کے عدالتی حکم نامے میں حکومت کا رینجرز تعینات کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کی کارروائی شروع نہیں ہوسکی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت پر دیگر ملزمان کے پیش نہ ہونے کی صورت میں اس مقدمے کی کارروائی الگ کرنے کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں ان میں حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں جبکہ عدالت نے مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
اس سے پہلے عدالتی عملے کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چاروں ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ ان ملزمان کو نو اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالتی عملے اور وہاں پر موجود وکلا کے مطابق سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کے بچے اپنی والدہ کی عیادت کے لیے اس وقت تک لندن میں رکے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزمان عدالت میں پیش ہوکر اپنے خلاف درج ہونے والے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی والدہ کی طبعیت ناساز ہے تو ایسے حالات میں انسانی بنیادوں پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری نہ کیے جائیں۔
قومی احتساب بیورو کے پراسیکوٹر مظفر عباسی نے عدالت کو ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیلی رپورٹ کے بارے میں بتایا۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزمان کو لندن میں ان کے رہائش گاہوں پر قابل ضمانت وارنٹ کی تعمیل کروادی گئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
برطانیہ سے ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ نیب کی طرف سے ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کے لیے مختلف پہلووں پر بھی دلائل دیے گئے تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا کوئی معائدہ نہیں ہے۔
عدالت نے نیب کے پراسکیوٹر کی استدعا کو منظرر کرتے ہوئے تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
نیب حکام کی جانب سے دیگر ملزمان کے پیش نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف کے خلاف مقدمے کو الگ سے ٹرائیل کرنے کے بارے میں بھی بات کی گئی تاہم عدالت کی طرف سے اس بارے میں کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کے تحت نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنسز دائر کیے تھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سماعت کے موقع پر نواز شریف کے بچوں حسن نواز، حسین نواز، مریم صفدر اور داماد کیپٹن صفدر کے قابلِ صمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہوئے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ کی برہمی
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سول انتظامیہ کے احکامات سے ہٹ کر رینجرز کی جانب سے نواز شریف کے وکلا، ساتھیوں اور میڈیا کے نمائندوں کو احتساب عدالت میں جانے سے روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوں گی۔

پیر کی صبح جب احسن اقبال بھی احتساب عدالت پہنچے تو میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں رینجرز چیف کمشنر کے ماتحت ہیں، چیف کمشنر نے کہا کہ میں نے انھیں کہا کہ یہاں پر ایک انتظام طے ہوا ہے ہم نے اس کے تحت چلنا ہے، رینجرز کی جو کمانڈر کر رہے تھے انھوں نے چیف کمشنر کو انکار کر دیا کہ ہمارے اپنے حکم ہیں اور ہم نواز شریف کے علاوہ کسی کو اندر نہیں جانے دیں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رینجرز کا مقامی کمانڈر روپوش ہو گیا، یہ ایسی صورتحال ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد رینجرز حکام نے وزرا کو عدالت میں جانے کی اجازت دے دی تھی۔

احتساب عدالت نے ہی گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی جبکہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے مقدمے میں فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستیں 15 ستمبر کو مسترد کر دی تھیں۔
احتساب عدالت میں گذشتہ سماعت جو کہ 26 ستمبر کو ہوئی تھی کے دوران نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے اپنے موکل کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔











