نواز شریف پاکستان جا کر عدالتوں کا سامنا کریں گے: حسین نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف پیر کو لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔
نواز شریف لندن میں زیرِ علاج اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے گئے تھے تاہم ان کی روانگی کے بعد سے ان کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔
نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے والد پاکستان میں احتساب عدالت کا سامنا کریں گے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے بچوں کو 26 ستمبر کو طلب کر رکھا ہے۔
پیر کی صبح سابق وزیراعظم کی اسلام آباد آمد پر بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور لیگی رہنما بھی نواز شریف کا استقبال کرنے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔
پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے قبل لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی بات اگر پاناما کی تھی تو انہیں اقامہ پر کیوں نکالا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی نااہلی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'فیصلہ بھی انہوں نے دیا اپیل بھی انہوں نے ہی سنی اور نگران جج بھی وہی بن گئے یہ کیسا احتساب ہے؟'
نوازشریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی تیمار داری کے لیے لندن آئے تھے اور ان کا یہیں رہنے اور پاکستان واپس نہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نواز شریف کی واپسی پر ان کی بیٹی مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ اگرچہ ان کے والد جانتے ہیں کہ انھیں جس کا سامنا ہے وہ احتساب نہیں لیکن پھر بھی انھوں نے واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب بات صرف ان کی نہیں بلکہ یہ 20 کروڑ عوام کی جنگ ہے۔
سابق وزیراعظم کی میڈیا سے گفتگو سے قبل ان کے صاحبزادے حسین نواز نے بی بی سی اردو کے عال شاہ زیب کو بتایا کہ ’نوازشریف نے پاکستان واپس جا کر نیب کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ کی طبیعت کافی ناساز ہے اور والد کے لیے لندن میں رہنا اس وقت انتہائی ضروری ہے تاہم وہ پاکستان جا کر عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ میری والدہ کی صحت میرے والد کے لیے ایک حقیقی مسئلہ ہے لیکن وہ یہ تاثر قائم نہیں کرنا چاہتے کہ وہ عدالت میں مقدمات کی سماعت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔‘
حسین نواز کا کہنا تھا کہ 'وہ انشا اللہ 26 تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
نیب عدالت نے پاناما کیس کے حوالے سے تین ریفرنسز میں میاں نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹین صفدر کو عدالت میں پہلے 19 ستمبر کو طلب کیا تھا تاہم ان کی عدم حاضری پر نیب نے نواز شریف اور دیگر افراد نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی زبانی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی۔
اس موقع پر عدالت نے ان تمام افراد کو 26 ستمبر کو دوبارہ طلب کیا تھا۔
خیال رہے کہ نیب نے نواز شریف، ان کے اہلخانہ اور اسحاق ڈار کے خلاف چار ریفرینس احتساب عدالت میں دائر کیے ہیں۔ ان میں بیرونِ ملک قائم آف شور کمپنیوں کے علاوہ میں العزیزیہ سٹیل مل اور لندن کے ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں ریفرنس شامل ہیں۔










