پاناما کیس پر فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں منظور، سماعت 12 ستمبر کو ہو گی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے فیصلے سے متعلق نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور اُن کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئیں نظرثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن تک یہ معلومات پہنچی ہیں کہ نظرثانی کی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے طرف سے جمعے کے روز اگلے ہفتے کے لیے مقدمات کی سماعت کے لیے جاری کی گئی کاز لسٹ کے مطابق نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت 12ستمبر کو ہو گی۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الااحسن شامل ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مدعلیہان کی طرف سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے سے متعلق بھی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں جنھیں سماعت کے لیے ابھی تک منظور نہیں کیا گیا۔ اس پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کے اپنے متفقہ فیصلے میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جو درخواست سماعت کے لیے منظور کی گئی ہے وہ حفظ ماتقدم کے طور پر دائر کی گئی تھی کہ اگر پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے بارے میں نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیے منطور ہوجاتی ہے تو عدالت کی طرف سے کہیں یہ نہ کہہ دیا جائے چونکہ ایف زیڈ ای کمپنی کے بارے میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نااہل قرار دیا ہے اس لیے اُس کے بارے میں درخواست کیوں نہیں دی گئی۔

نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر یہ درخواست دائر نہ کرتے تو پھر یہ سمجھا جانا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنی نااہلی کے عدالتی فیصلے کو منظور کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن کو محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے ریفرنس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق نگراں جج بھی مقرر کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت ہی کیا تھا اس لیے اس میں کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر نہیں کی جاسکتیں تاہم اس فیصلے پر نظرثانی کے بارے میں درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے اس آرٹیکل کے تحت دیے گئے فیصلوں میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کرنے والوں کو ریلیف ملنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا وہی تین رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا جنھوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی اور اس ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ہی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں نواز شریف کو نااہل اور اُن کے اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

نواز شریف اور ان کے بچوں کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی نظرثانی کی ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں میں مدعلیہان کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس کے وہ متقاضی تھے۔

اس کے علاوہ ان درخواستوں میں سپریم کورٹ سے 28 جولائی کا فیصلہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج سے ہٹانے کی بھی بات کی گئی ہے۔

ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی ماتحت عدلیہ میں چلنے والے مقدمات کی نگرانی کے لیے اعلی عدلیہ کا جج مقرر کیا جائے اور یہ اقدام انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔