’امریکہ ابہام کا شکار ہے، اس سے امن نہیں آئے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق اپنی پالسی واضح کر دی ہے اور انھوں نے اپنی تقریر میں صرف پاکستان کے ساتھ سختی برتی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پالسی بیان کرتے وقت پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔' انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ امریکہ کا ساتھ دے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سلسلے میں پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید فوجی کارروائیوں کا عندیہ اور امریکہ کا پاکستان کی جانب دھمکی آمیز رویہ خطے میں امن کی راہ میں خلل ڈال سکتا ہے۔
تو امریکی صدر ٹرمپ کا بیان پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان نے کہا: 'پاکستان پر غیر ضروری سختی کی جا رہی ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی سولہ سالہ جنگ کی ناکامی پاکستان کے سر پر نہیں ڈال سکتا۔ صرف پاکستان کو قصوار ٹھہرانا ناجائز ہے۔'
انھوں نے الزام لگایا کہ 'سرحد کے اس پار بھی انتہا پسند متحرک ہیں اور جب پاکستان ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو وہاں وسائل کی کمی کا جواب آتا ہے جبکہ اربوں ڈالر وہاں خرچ ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا یہ بیان پاکستان کی قربابیوں کو نہ تسلیم کرنے کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سلسلے میں افغان امور کے ماہر سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا: 'میرے خیال میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اتنے سخت لہجے میں پاکستان کو چارج شیٹ پکڑائی ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان سارے مطالبے پورے نہ کرے جس کے بدلے میں اس پر اقتصادی پابندیاں لگنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ انڈیا اور افغانستان کے ذریعے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔'
انھوں نے مزیذ کہا کہ 'امریکی امداد میں کمی پہلے ہی آچکی ہے تو ہو سکتا ہے کہ امریکہ مزید کمی کرے اگر اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو۔'
خیال رہے کہ جون 2017 میں واشنگٹن نے حقانی گرہوں کے خلاف ناکافی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کو دی جانے والی تین سو پچاس ملین ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انڈیا کی جانب بڑھتے جھکاؤ کے خطے کی سیاست پر کیا اثرات پڑھ سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں انڈیا کے کردار کی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اقتصادی اور مالی طور پر بھی افغانستان کی مدد کریں۔
اس سلسلے میں رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں: 'امریکی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افغانستان میں انڈیا کا کردار بڑھانا چاہتے ہیں جو کہ پاکستان کو قبول نہیں ہو گا۔ لگتا ہے پاکستان کو گھیرے میں لیا جا رہا ہے اور پاکستان ممکنہ طور پر اپنا وہی موقف دہرائے گا کہ افغانستان میں امن کے لیے فوجی حل نہیں بلکہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ جبکہ امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھانے اور مزید فوجی کارروائیوں کی جانب بڑھتا نظر آرہا ہے۔'
شیری رحمان کا کہنا ہے: 'پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مودی سرکار کے آنے کے بعد سے خاصے خراب ہیں۔ اور لگتا ہے امریکہ چین کو محدود کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے جو کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کی پالسی سے زیادہ امریکہ کی جیو سٹرٹجیک پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اور اس طرح کی پالیسی سے نہ صرف ہمسایہ ملک دور ہوں گے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔'
ان کا کہنا تھا: 'امریکہ ابہام کا شکار نظر آتا ہے اور اس ابہام سے خطے میں امن لانا مشکل ہو گا۔'








