میری نااہلی عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کے نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جہلم میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نااہلی عوام کا ووٹ پھاڑنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے جہلم میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ججوں نے مجھے نااہل قرار دے کر عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے، اور عوام کو ان سے پوچھنا چاہیے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا حالانکہ میرے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں تھا‘۔
لاہور کی جانب گامزن نواز شریف کا قافلہ دوپہر کو راولپنڈی سے نکلا اور تیز رفتاری سے سفر کرتا ہوا جہلم پہنچا۔
سابق وزیر اعظم نے اپنے دورِ حکومت کی خصوصیات گنواتے ہوئے کہا کہ آج کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہت بہتر ہے اور ایک طرف لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم ہو گئے ہیں تو دوسری جانب کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنائی گئی۔
انھوں نے افسوس ظاہر کیا کہ گذشتہ 70 سال میں کوئی بھی وزیرِ اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا اور وزیرِ اعظم کی اوسط مدت صرف ڈیڑھ سال بنتی ہے، جب کہ دوسری جانب ’ڈکٹیٹر دس دس گیارہ گیارہ برس مکمل کر کے جاتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ 20 کروڑ عوام وزیرِ اعظم بنا کر بھیجتے ہیں جب کہ ’کوئی ڈکٹیٹر یا کوئی جج مینڈیٹ کی توہین کر کے گھر بھیج دیتا ہے، جو آپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر آپ کے ہاتھ میں تھما دینے کے مترادف ہے‘۔
نواز شریف نے کہا کہ اگر اقتدار ان کے ہاتھوں میں رہنے دیا جاتا تو ملک میں کوئی بےروزگار نہ ہوتا۔
نواز شریف کے جلوس کی تیز رفتاری سے سبھی تجزیہ کار حیران رہ گئےتھے، تاہم قافلے کے ساتھ تعینات پولیس سکواڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ وفاقی وزیر سعد رفیق جب کچہری چوک پر پہنچے تو چند افراد ان سے ملنے آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔
کچھ دیر بعد سعد رفیق واپس آئے اور جا کر سابق وزیرِ اعظم کی گاڑی میں بیٹھے اور اس کے بعد ان کا قافلہ اس قدر تیز رفتاری سے گزر گیا کہ راستے میں منتظر استقبالی پارٹیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سعد رفیق کی وساطت سے نواز شریف کو کوئی پیغام دیا گیا ہے۔
تاہم دوسری جانب کیڈ کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےاس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ قافلے کی رفتار میں تیزی کی وجہ جہلم پہنچنا ہے جہاں میاں نواز شریف خطاب کریں گے۔'










