’نواز کی نااہلی کے بعد شہباز شریف پارٹی کے صدر ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ سے نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے مسلم لیگ نواز کو اپنا نیا صدر منتخب کرنے کے نوٹس پر پارٹی کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پارٹی کا نیا صدر بنانے کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
منگل کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ سنہ 2002 کے تحت کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔
بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین کے لیے ایک انٹرویو دیتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ میاں شہباز شریف کو صدر بنانے کے فیصلے کا اعلان ایک دو دن میں کر دیا جائے گا۔
اس بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پارٹی کے اندر اب تک جو بھی مشاورت ہوئی ہے اس میں اکثریتی ارکان کی یہی رائے ہے کہ میاں نواز شریف کی سیاست سے نااہلی کے بعد پارٹی کی باگ ڈور میاں شبہاز شریف کو سونپ دینی چاہیے۔
راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سابق فوجی صدر مشرف کے دور میں بھی جب میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی تھی اور انھیں سیاست سے نااہل قرار دیا گیا تھا تو پارٹی نے شہباز شریف ہی کو پارٹی کا صدر بنایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت اور سیاست میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ آئین کی جس مذکورہ بالا شق کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اس میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے اور آئینی ماہرین کی اکثریت کا یہ موقف ہے کہ جہاں نااہلی کی مدت نہ دی گئی ہو وہاں نااہلی تاحیات ہی تصور کی جاتی ہے۔
نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے پر حکمران جماعت شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے لیکن اب تک اس کی طرف سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں جب راجہ ظفر الحق سے پوچھا گیا کہ پارٹی اب کسی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے یا اس کی لڑائی کس سے ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ لڑائی عوام کے ووٹروں کی بے قدری کے خلاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن اگلے برس جون میں ہونے والے ہیں اور کئی سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی تیاریاں شروع کر دی ہیں اس لیے مسلم لیگ ن نے بھی تیاریاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومتی اور انتظامی معاملات کی وجہ سے اب تک جماعت کے تنظیمی معاملات نظر انداز ہوتے رہے ہیں لیکن اب جماعت کے معاملات کو سنجیدگی سے طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔











