سپریم کورٹ نے نگراں جج مقرر کر دیا

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت آنے والے مقدمات کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج مقرر کیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے 28جولائی کو پاناما سکینڈل میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ اُن کے اور اُن کے بچوں کے خلاف بیرون ممالک اثاثے بنانے کے الزام میں احتساب عدالتوں میں تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن اس تین رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف چھان بین کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی اور اسی بینچ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر مدعلیہان کے دلائل بھی سنے تھے۔

ایک ریفرنس سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ ریفرنس معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے سے متعلق ہے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے علاوہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی راولپنڈی اور اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

احتساب عدالت کو ریفرنس دائر ہونے کے بعد چھ ماہ میں ان ریفرنس میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔