جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے کر مسترد کرتے ہیں: احسن اقبال

،تصویر کا ذریعہPID
حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مسلم لیگ نون کے وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال نے پیر کو مسلم لیگ کے دیگر اعلیٰ ارکان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کسی بھی دلیل یا مستند مواد پر مشتمل نہیں۔
خیال رہے کہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی کرنے والی مشترکہ ٹیم (جے آئی ٹی) نے پیر کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔
وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی اس حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت قانونی ماہرین اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد وہ بہت جلد رپورٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جائیں گے اور ’اس کے تضاد اور جھوٹ کو بے نقاب کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ جے آئی ٹی میں سیاسی مخالفین کو شامل کیا گیا اور ان کے مطابق اس تحقیقاتی ٹیم نے تحقیق کرنے کی بجائے خود ہی ٹرائل کورٹ بننے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کے خلاف کوئی مالی بدعنوانی کا کیس نہیں نکلا اور نہ ہی سرکاری وسائل کو استعمال کرنے کا کوئی الزام لگایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ان کے مطابق رپورٹ میں تمام الزامات نجی کاروبار پر لگائے گئے ہیں جس سے وزیر اعظم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
احسن اقبال کے علاوہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی ٹوئٹر پر جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کو تحقیقات کے دوران بھی وزیراعظم نہیں ہوناچاہیے تھا اور جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد انھیں فوری طور پرمستعفی ہوجانا چاہیے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے۔











