’انڈین حکام نے 150 سکھ یاتریوں کو سرحد پر روک لیا‘

سکھ یاتری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسکھ مذہب کے متعدد اہم مذہبی مقامات پاکستان میں واقع ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈین حکام مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان آنے کے خواہشمند 150 سے زیادہ سکھ یاتریوں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ بدھ کی صبح سے اٹاری میں موجود ہیں اور انھیں پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی باوجود اس کہ پاکستان کی جانب سے ان یاتریوں کے لیے خصوصی ٹرین کا انتظام کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے راجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر پاکستان آنے کے خواہشمند 300 یاتریوں کو ویزے جاری کیے تھے جن میں سے نصف سے زیادہ اس وقت اٹاری پر موجود ہیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رواں برس میں پہلا موقع نہیں کہ پاکستان آنے کے خواہشمند سکھ یاتریوں کو انڈین حکام نے روکا ہو۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوڑ میلہ کے موقع پر بھی یاتریوں کو 'تکینکی وجوہات' کی بنیاد پر اٹاری سٹیشن پر روک کر رکھا گیا تھا اور ان میں سے بڑی تعداد مذہبی تہوار میں شرکت سے محروم رہی تھی۔

خیال رہے کہ سنہ 2014 میں بھی اس قسم کا ایک تنازع پیدا ہوا تھا جب گورو ارجن دیو کی برسی منانے کے لیے پاکستان آنے والے یاتریوں کو انڈین حکام نے اس ریل گاڑی پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی جو پاکستانی حکام نے روانہ کی تھی۔

گردوارہ کیارہ صاحب
،تصویر کا کیپشنسکھ مذہب کے متعدد اہم مذہبی مقامات پاکستان میں واقع ہیں

اس وقت انڈین حکام نے ریل گاڑی میں سفر کو غیر محفوظ قرار دیا تھا جس کے بعد یاتری بذریعہ بس لاہور آئے تھے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مذہبی سیاحت کے لیے یاتریوں کی مدد کرنا انڈیا اور پاکستان کے درمیان موجود معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ رواں سال دو مرتبہ یہ عمل رکاوٹوں کا شکار ہوا ہے۔

بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ انڈیا کی حکومت اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔

خیال رہے کہ سکھ مذہب کے متعدد اہم مذہبی مقامات پاکستان میں واقع ہیں جن کی زیارت کے لیے انڈیا اور دیگر ممالک سے سکھوں کی بڑی تعداد ہر سال پاکستان آتی ہے۔