'نواز شریف از مائے پرائڈ‘ اور ’کرائم منسٹر نواز شریف' کے ہیش ٹیگ

نواز شریف
    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ٹویٹر پر دو ٹرینڈ نمایاں رہے جن میں حکمران جماعت اور وزیراعظم کے حمایتیوں کی جانب سے 'نواز شریف از مائے پرائڈ' جبکہ مخالفین کی جانب سے 'کرائم منسٹر نواز شریف' کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ میں رہا۔

وزیراعظم کی پیشی کے وقت ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ'آج کے دن تاریخ رقم ہوئی اور دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال قائم ہوئی۔'

وزیراعظم کی پیشی کے بعد ان کی ٹویٹ تھی کہ'صرف شیر ہی نہیں شیر دل بھی۔ اپوزیشن جماعتوں میں سے تحریک انصاف کے حمایتی مختلف اکاؤنٹس سے وزیر اعظم کی پیشی کو عمران خان کی جد و جہد کی کامیابی قرار دیا گیا۔

وزیراعظم نے پیشی کے بعد تقریر بھی کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرا حساب میری پیدائش سے قبل سے لیا گیا ہے۔

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجعمرات کو تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے تین گھنٹے تک وزیراعظم نواز شریف سے سوالات کیے

تقریر کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے لکھا وزیراعظم نے پیشی سے کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ انہں نے تو اپنی زیادتیوں کا جواب بھی نہیں دیا ۔تحریک انصاف کے ہی اسد عمر نے لکھا نواز شریف کی میڈیا ٹاک سے پتہ چلتا ہے کہ جے آئی ٹی میں ان کا جواب انتہائی سادہ تھا:' منی ٹریل نشتہ'۔

تجزیہ کار مشرف زیدی کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ نواز شریف نے پیشی کے بعد خطاب میں حمایتیوں سے بات کی ناقدین سے نہیں۔

ٹویٹر کے مختلف صارفین نے وزیراعظم کی پیشی پر دلچسپی اور عدم دلچسپی کو موضوع بنایا۔ اس حوالے سے مقامی میڈیا میں کی جانے والی طویل کوریج پر بیزاری کا اظہار بھی کیا گیا ۔

ایک ٹویٹر صارف افشاں مصعب نے ٹویٹ کیا کہ میاں صاحب وقت سے پیشی بھگتا کر گھر چلے گئے اب آرام سے ٹھنڈے کمرے میں کرکٹ میچ دیکھ سکتے ہیں۔

عارف علوی

ہیش ٹیگ 'کرائم منسٹر نواز شریف' پر محمد عمر نسیم نے ٹویٹ کیا نوازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے۔

وزیر اعظم کی پیشی کے بعد مختلف لیگی رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقات کی تصاویر شیئر کی گئیں۔ مخالفین میں سے اکثریت کی رائے تھی کے حکمران جماعت کے رہنماؤں کے چہرے اترے ہوئے نظر آ رہے تھے۔