پشاور: ایک صدی پرانے ترناب فارم پر ایکسپو سینٹر کی تعمیر

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں زرعی تحقیق کے لیے مختص ترناب فارم کی زمین پر ایکسپو سینٹر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔صوبائی حکومت نے اس کے لیے 25 ایکڑ زمین مختص کی ہے جہاں سے 30 ہزار قیمتی پودے تلف کر کے ٹریکٹر چلا دیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کے لیے زمین پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے جبکہ اس کی تعمیر پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کرے گی۔ دونوں سیاسی جماعتوں میں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔
پشاور شہر سے 20 کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر گھنے درخت، پھل دار پودے اور سبزیوں کے کھیت اس ترناب فارم کا حصہ ہیں۔ یہ قیمتی زمین حکمرانوں کی نظر میں تھی اب یہاں ہریالی ختم کر کے ایکسپو سینٹر کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اس منصوبے میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز متحد ہیں جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔
ابتدائی طور پر 25 ایکڑ زمین پر نایاب پودے تلف کرکے چٹیل میدان بنا دیا گیا ہے جبکہ مزید 25 ایکڑ زمین بھی ایکسپو سینٹر کو دینے کا منصوبہ ہے۔

ترناب فارم 108 سال پہلے برطانوی دور میں قائم کیا گیا تھا اور اس میں سبزیوں پھلوں اور دیگر اجناس کے بیج کی تیاری، نرسریاں قائم کرنا اور نئی اقسام تیار کرنے کے علاوہ مختلف بیماریوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ترناب فارم کی کل زمین دو سو ایکڑ ہے۔
ترناب فارم کے دورے کے دوران زرعی یونیورسٹی پشاور کے ایم ایس سی آنرز کے طالب علموں سے ملاقات ہوئی جو 'پولینیشن' کے موضوع پر ٹماٹروں کی پیدوار پر تحقیق کر رہے تھے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک طالب علم عاقب شکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ترناب فارم خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں زراعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ وہ تحقیق کے لیے جا سکیں اس لیے بیشترطالب علم ریسرچ سینٹر آتے ہیں جہاں انھیں تمام سہولیات دستیاب ہوتی ہیں اور اسی ریسرچ کے نتیجے میں مختلف اجناس کی پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے اعلیٰ نسل کے پھلوں کی نئی اقسام دریافت کی جاتی ہیں۔
ترناب فارم سے نہ صرف طالب علم بلکہ زمیندار اور کسان بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
ترناب فارم کے قریب مقیم لوگوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ اچانک ہی ہوا ہے اور ایک دن یہاں زمین پر ٹریکٹر چلائے گئے 30 ہزار سے زیادہ قیمتی پودے تلف کر دیے گئے۔
ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں حکومت کے اس منصوبے کی مخالف ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم سرحد کنزرویشن نیٹ ورک کے بانی عہدیدار عادل ظریف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے سے زراعت اور باغبانی کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ ایکسپو سینٹر ہماری خوراک نہیں ہے کہ ہم کھائیں گے اگر اسی طرح اتنی قیمتی زمینوں پر عمارتیں تعمیر کی جائیں گی تو ہم کھائیں گے کیا یہ تو ہم اجتماعی خودکشی کرنے جا رہے ہیں۔
عادل ظریف نے اعلیٰ حکام کو خطوط بھی لکھے ہیں جن میں انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد فوری طور پر روکا جائے۔
حکومت کے اس فیصلے سے صرف ترناب فارم ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ اس سے جڑی ٹی ٹی روڈ پر ایک سو کے لگ بھگ نرسریاں بھی تباہ ہو جائیں گی جن میں لاکھوں قیمتی پودے رکھے گئے ہیں۔ ان نرسریوں کے مالکان کو بھی نوٹسز جای کیے جا چکے ہیں۔

ایک نرسری کے مالک امین جان نے بتایا کہ ہر ایک نرسری میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے پودے رکھے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک لوگ لے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ترناب فارم کا آڑو، ناشپاتی، ترناب گلابی انار،اور انگور کی اہم قسمیں تیار کی ہیں جو محتلف ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے اس سے پہلے پشاور یونیورسٹی کے بوٹینیکل گارڈن پر بھی تعمیرات کا منصوبہ بنایا ہے۔ اعلیٰ تحقیق اور تعلیم کے لیے مختص زمینوں پر اگر اسی رفتار سے ٹریکٹر چلائے گئے تو آئندہ کچھ عرصے میں اہم ذائقہ دار پھل شاید نایاب ہوجائیں گے۔








