’حسین کو کرسی دی ہے، آرام سے بیٹھے ہیں، پریشانی کیا ہے‘

حسین نواز

،تصویر کا ذریعہReuters

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے دوران وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ یہ درخواست حسین نواز کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ حسین نواز کی تصویر لیک کرنے میں خود جے آئی ٹی کے لوگ ہی ملوث تھے جس کا اُنھوں نے اعتراف بھی کیا ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تصویر میں حسین نواز کو کرسی دی گئی ہے جس میں وہ آرام سے بیٹھے ہیں تو پھر اس پر پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔

حسین نواز کے وکیل نے مزید کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنے تئیں تفتیش کے دوران پیش ہونے والے افراد کی ویڈیو ریکارڈنگ شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد ان افراد کو دباؤ میں لاکر اپنی مرضی کے بیانات لینا ہے۔

پاناما لیکس کی تحققیات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ کو کسی طور پر بھی بطور شہادت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ بیان کو تحریر کرتے ہوئے کوئی غلطی نہ رہے۔

وزیر اعظم کے صاحبزادے کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ملکی آئین اور قانون شہادت میں اس کی گنجائش ہی نہیں ہے تو پھر پیش ہونے والے افراد کے بیانات کی ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جس طرح حسین نواز کی تصویر لیک کی گئی اگر اس طرح وزیر اعظم کی تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر آگئی تو پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہو گی۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان جمعرات کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ویڈیو ریکارڈنگ کو بطور شہادت استعمال نہ بھی کیا جائے لیکن اس ویڈیو ریکارڈنگ کو جے آئی ٹی کے ارکان کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔