آٹھ دنوں میں دوسری بار پی آئی اے کے طیارے سے ’منشیات برآمد‘

جہاز

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں بھی لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے طیارے سے ہیروئین برآمد کی گئی تھی

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی اسلام آباد سے لندن جانے والی ایک پرواز سے 20 کلوگرام ہیروئین برآمد ہوئی ہے۔

پیر کو پی آئی اے کے ترجمان مشہور تاجور کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ حکام کی جانب سے چار طیاروں کی تلاشی کا منصوبہ تھا جن میں سے ایک اسلام آباد سے لندن جانے والی پرواز پی کے 785 سے 20 کلو ہیروئین برآمد ہوئی۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق ’طیارے کی تلاشی کا کام انسدادِ منشیات فورس، پی آئی اے سکیورٹی اور دیگر اداروں نے مل کر کیا۔‘

بیان کے مطابق تلاشی کا کام مسافروں کے طیارے میں سوار ہونے سے پہلے کیا گیا اور تلاشی کے بعد پرواز کو اڑان بھرنے کے لیے کلیئر قرار دے دیا گیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب احمد خان نے اس واقعے کی تفتیش کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب حسین اصغر کو سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ تعینات کیا گیا ہے۔

جہاز

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ گذشتہ سال اگست سے پی آئی اے کی کم از کم تین پروازوں سے منشیات برآمد ہونے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

گذشتہ دنوں بھی لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے طیارے سے ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔ 15 مئی کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 اسلام آباد سے لندن پہنچی تھی جہاں برطانوی حکام نے طیارے کی تلاشی لی اور منشیات برآمد کیں۔

پی آئی اے

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشناس واقعے میں ملوث طیارہ پی آئی اے کا بوئنگ 777-240 ای آر تھا

اس موقعے پر مشہود تاجور کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 پر سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے تلاشی کے عمل کے بعد پی آئی اے کو نہ تو زبانی اور نہ ہی تحریری طور پر طیارے میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے دوران پرواز کے عملے کو روکا گیا تھا جن کو بعد میں ہوٹل جانے کی اجازت دی گئی۔

اس واقعے میں ملوث طیارہ پی آئی اے کا بوئنگ 777-240 ای آر تھا اور اس سے قبل بھی جب یہ طیارہ کراچی میں معمول کی مرمت کے لیے ہینگر میں کھڑا تھا تو پی آئی اے ہی کے انسدادِ منشیات کے عملے نے اس کے بعض حصوں می چھپائی گئی منشیات کی نشاندہی کی تھی جسے بعد میں برآمد کیا گیا۔