پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے: خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے معاملے میں سنائے گئے عبوری فیصلے کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائیگا۔
'ہماری سب سے اہم ترجیح ہماری قومی سلامتی ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔'
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ 'کلبھوشن جادھو کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو پلیٹ فارم ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی۔ اور ان کو تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جا رہی تھی۔'
بی بی سی سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کی پھانسی میں تاخیر نہیں کی گئی بلکہ قانونی کارروائی کا ٹائم فریم طے ہے جس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے کسی مرحلے پر کلبھوشن جادھو کی انڈیا کو حوالگی کے امکان کو رد کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے نہایت سرگرم رہے ہیں، جس جرم کے لیے قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار مکمل تھا، جس کے بعد اب کلبھوشن کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں'۔
عالمی عدالت انصاف کے سامنے آنے والے فیصلے میں پاکستان کا موقف تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'کیس کے مندرجات پر تو ابھی بحث ہی نہیں ہوئی صرف فوری سزائے موت پر حکم امتناع آیا ہے'۔
انھوں نے کہا کہ کیس پر بحث کے دوران پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے 'جاسوسی جیسے معاملے پر اپنے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کام کیا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ کلبھوشن کی سزائے موت پر 'حکم امتناع تو بس رسمی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کا کیس جانے پر انھوں نے اسمبلی میں پاکستان کی تیاری کے حوالے سے سوال پوچھا تھا تاہم اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ 'حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ انڈیا کثیر الجہتی فورمز پر مسائل لے جانا پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا تھا کہ اگر انڈیا عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس لے کر جا رہا ہے تو اس نے ضرور تیاری کی ہو گی۔'
انھوں نے کہا کہ بار بار سینیٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کلبھوشن جیسے بین الاقوامی کیس کا عالمی سطح پر بیانیہ ہی نہیں بنایا گیا۔
شیری رحمان نے کہا کہ یہ کیس صحیح طریقے سے پیش ہی نہیں کیا گیا۔ 'پاکستانی حکومت کے پاس 10 مئی تک آپشن تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں ایک ایڈ ہاک جج کی تقرری کرتے جو کہ انڈیا نے کیا پاکستان نے نہیں کیا۔ پھر آپ نے 15 مئی تک ایک تحریری بیان جمع کرانا تھا جو نہیں کیا گیا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہو تو وہ ہمیں دے کیونکہ پارلیمان میں تو اس کی جوابدہی نہیں ہوئی۔
انھوں نے کہا ' کیوں حکومت نے ایک غیر تجربہ کار نوجوان وکیل کو اٹارنی جنرل کے دفتر سماعت کے لیے بھیجا گیا جبکہ انڈیا نے لندن سے وہ وکیل کیا جو کوئنز کونسل ہیں اور اس قسم کے مقدمات لڑنے اور جیتنے کے لیے مشہور ہیں۔'







