آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میسج بینظیر انکم سپورٹ سے تو نہیں آیا؟‘
- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی سیاست اور عوام میں ایک بار پھر تہلکہ اس وقت مچا دیا جب گذشتہ دنوں ایک اجلاس میں خطاب کرتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کو 'چپ رہنے کے لیے 10 ارب روپے' کی پیشکش کی گئی تھی۔
انھوں نے ایک اجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز پر الزام لگایا کہ حکمراں جماعت نے پاناما کیس کے حوالے سے چپ سادھنے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔
اس الزام کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے تو پوری پریس کانفرنس کر ڈالی۔
دیگر سیاسی جماعتوں نے تو اپنے اپنے بیان دیے جیسے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہا کہ 'عران خان صاحب سے پوچھیں کہ یہ الف والے ہیں یا عین والے ہیں'۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے یہ بہت سنگین الزام لگایا گیا ہے اور ان کو اس شخص کا نام منظر عام پر لانا چاہیے جس نے ان کو یہ پیشکش کی ہے۔
سیاسی جماعتوں کا واویلا تو ایک طرف لیکن سوشل میڈیا پر اس الزام پر کافی چرچا ہوا اور IwasOffered10BillionFor # کا ہیش ٹیگ پاکستان میں پہلے 10 ٹرینڈز میں آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نعمان ڈار نامی ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’خان صاحب کو 10 ارب کا میسج کہیں بینظیر انکم سپورٹ والوں کی طرف سے تو نہیں آیا۔‘
سماجی کمنٹیٹر اور کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے ٹرینڈ IwasOffered10BillionFor پر ٹویٹ میں لکھا ’دس ارب روپے ملیں گے۔ پانچ ارب عید مبارک کے نوٹوں کی شکل میں اور باقی روپے مونوپلی کی رقم کی شکل میں۔‘
ایک اور صارف نعمان یوسف نے حکمراں جماعت پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے ’بریانی پر مان جانے والے سپورٹرز کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی بندہ دس ارب کی بڑی پیشکش بھی ٹھکرا سکتا ہے۔‘
صحافی غریدہ فاروقی کے ٹویٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ٹویٹ کیا کہ ’عمران خان کو ضرور وضاحت کرنی ہو گی کیونکہ یہ الزام نہایت سنگین ہے اور جس رقم کا ذکر ہے وہ بہت بڑی ہے۔‘
ایک اور صارف ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ عمران خان نے پیشکش کے حوالے سے مبہم بیان دیا ہے۔
لیکن ایک اور صارف جن کا ٹوئٹر ہینڈل ’لائف از رِگڈ‘ ہے کا کہنا ہے ’اگر نواز شریف گاڈ فادر ہیں بقول جسٹس کھوسہ کے تو وہ عمران خان کو وہ پیشکش کرتے جو وہ ٹھکرا نہ سکتے۔‘