آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اپوزیشن کا وزیرِاعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما دستاویزات کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے حکم کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ دہرایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیم کی تشکیل نواز شریف کو راہِ فرار دینے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں ایک ہفتے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو دو ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔
پانچ رکنی بینچ میں سے تین ججوں نے 540 صفحات کے فیصلے میں تحقیقات کا حکم دیا جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف کھوسہ سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کو کہا۔
اس فیصلے کے بعد دونوں فریقین کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تحقیقات کی تکمیل تک نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج تاریخ بنی ہے اور ایسا فیصلہ کسی وزیراعظم کے خلاف نہیں آیا جب کہ دو ججوں نے کہا ہے کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پاس وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات مکمل ہونے تک نواز شریف اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور اگر وہ 60 دن بعد بری ہو جاتے ہیں تو دوبارہ اپنے عہدے پر آ جائیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خود نواز شریف نے بھی یوسف رضا گیلانی کو ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم سے جے آئی ٹی کی تحقیقات ایسے ہی ہیں جیسے عزیر بلوچ سے تفتیش کی گئی تھی۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مٹھائیاں کس چیز کی بانٹیں جا رہی ہیں کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے انھیں نااہل قرار دیا ہے اور تین ججوں نے ان کے خلاف تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔‘
فیصلے سے نظریہ ضرورت کی بو آتی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتزاز احسن نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ججوں کا فیصلہ تین ججوں سے زیادہ اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ججوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججوں نے اس رائے کی تردید نہیں کی۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ دو ججز کی رائے سپریم کورٹ کی رائے سمجھی جا سکتی ہے جبکہ تین ججوں نے مایوس کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہِ فرار دینے کے مترادف ہے اور فیصلے سے نظریہ ضرورت کی بو آتی ہے۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سیکریٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا حکم ان پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'پگڑی گر گئی پر عزت بچ گئی والی بات ہوئی ہے اور اب ملک کے وزیر اعظم اب ماتحت اداروں کے نمائندوں کے سامنے پیش ہوں گے۔'
حکومتی ردعمل
وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مسلم لیگ نواز ایک بار پھر سرخرو ہوئی اور جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہو کر نکلی۔'
مریم اورنگ زیب کے مطابق 'ہمارے مخالفین نے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔'
پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے سازش کو ناکام بنا دیا اور جو لوگ شب خون مارنا چاہتے تھے انھیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ 'عمران خان کے دعوے کہ ان کے پاس نواز شریف کے خلاف ثبوت ہیں انھیں عدالت نے تسلیم نہیں کیا۔ آج پاکستان کے عوام کی فتح ہوئی ہے۔ آج آئین اور قانون کی جیت ہوئی ہے۔'
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عدالتِ عظمیٰ نے اکثریت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے جو نواز شریف نے چھ ماہ قبل کہا تھا کہ پاناما پر کمیشن بنے، تحقیقات ہوں کیونکہ ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
'ہمارے مخالفین نے جو شہادیں عدالت میں پیش کیں وہ نا کافی تھیں۔'
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم سرخرو ہوئے ہیں۔ جو لوگ یہ خواہش رکھتے تھے کہ وہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے چاہتے تھے تو میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ وزیرِ اعظم سنہ 2018 تک وزیرِ اعظم رہیں گے۔