مشال خان قتل کے دو اہم ملزمان ویڈیو کی مدد سے گرفتار: ڈی پی او مردان

،تصویر کا ذریعہDPO MARDAN
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے ضلعی پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کے دو اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق ملزم بلال بخش پر یونیورسٹی میں جمع طلبا کو اشتعال دلاونے اور بنا کسی انکوائری کے مشال خان اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا نعرہ لگانے کا الزام ہے۔
یاد رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈی پی او مردان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملزم بلال بخش یونیورسٹی میں کمپیوٹر آپریٹر تھے جنھیں یونیورسٹی انتظامیہ نے گیٹ سکیورٹی کا انچارج تعینات کیا تھا۔
بیان کے مطابق حراست میں لیے جانے والا دوسرا ملزم عامر ہے جو تنگی یونیورسٹی کا طالب علم ہے اس ان کی شناخت ویڈیو کی مدد سے کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
ان کے مطابق ملزم عامر کو ویڈیو میں مشال خان کی لاش کی بے حرمتی کرتے اور شدید ضربیں لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ گذشتہ مشال خان کی ہلاکت کے بعد ایک نئی ویڈیو سامنے آئی جس میں کچھ لوگ اشتعال دلا رہے ہیں اور نعرہ بازی کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDPO MARDAN
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس کیس میں پولیس نے گذشتہ روز بھی دو افراد کو حراست میں لیا تھا جس کے بعد گرفتاریوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس نئی ویڈیو میں چند لوگ مشتعل نظر آ رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ’آؤ اسے ڈھونڈتے ہیں‘ لیکن اس میں کسی کا نام صاف نہیں سنا جا رہا۔ اس ویڈیو میں بیشتر افراد کی شناخت آسانی سے ہو سکتی ہے۔ یہ ویڈیو مشال کے قتل سے پہلے کی ہے اور اس ویڈیو کے آخر میں ایک شخص یہ کہتا ہے کہ یہ موبائل بند کر دو اور اس کے بعد ویڈیو بند ہو جاتی ہے۔












