پنجاب میں صرف 15 دن گزارنے پر بلے اور شیر والوں کا حال خراب ہے: آصف زرداری

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انھوں نے پنجاب میں صرف 15 دن گزارے اور مخالف سیاسی جماعتوں کی حالت خراب ہو گئی ہے۔
منگل کے روز گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 38ویں برسی کے موقعے پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ’میں صرف 15 دن سے پنجاب میں بیٹھا ہوں اور بلے والوں کے ساتھ ساتھ شیروں کا بھی حال خراب ہو گیا ہے۔‘
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ابھی تو انھوں نے پنجاب کے مختلف ضلعوں اور ڈویژنوں میں جانا ہے۔
اس موقعے پر آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات کے لیے بالکل تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پاناما کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ ہر سال چار اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منائی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ '40 سال پہلے سامراج اور اس کے حواریوں نے سازش کی جس کے تحت مذہبی انتہا پسندی کا بیچ بویا گیا، لیکن اس انتہا پسندی کے خلاف ہماری جنگ کل بھی جاری تھی اور آج بھی جاری ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’آج کے دن جمہوریت کے بانی کو پھانسی دی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’بھٹو ایک انسان کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے اور جہد و جہد کا نام ہے۔‘
اس موقع پر انھوں نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ملک جہاں دو سال پہلے کھڑا تھا آج بھی وہیں کھڑا ہے۔
’موجودہ حکومت کی نہ تو کوئی خارجہ پالیسی ہے نہ ہی داخلہ پالیسی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم نواز شریف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ نیشنل ایکشن پلان پر کیوں عمل نہیں کیا گیا؟ دو سال بعد بھی دوبارہ فوجی عدالتوں کی ضرورت کیوں پڑی؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو بیرونی قرضے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو بجلی اور گیس کی قلت کیوں ہوتی جارہی ہے؟ اور اگر ترقی ہو رہی ہے تو قوم آپ سے نجات کیوں پانا چاہتی ہے؟‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں اور ملک کو بدعنوان اور نااہل حکمرانوں سے نجات دلانے کا وقت آ گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ منگل ہی کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس کمیٹی کے سربراہ اویس لغاری کی قیادت میں ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی رکن ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی وجہ سے موجود نہیں تھا۔








