آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حسین حقانی کا بیان ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق ہے: آئی ایس پی آر
افواج پاکستان کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کےسابق سفیر حسین حقانی کے امریکی اہلکاروں کو ویزے جاری کرنے کے حوالے سے امریکی اخبار میں مضمون نے ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق کر دی ہے۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سابق سفیر حسین حقانی کا ویزوں کے حوالے سے امریکی اخبار میں چھپنے والے بیان سے ریاستی ادروں کے موقف کی تصدیق ہو گئی ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سابق سفیر حسین حقانی کا ان ویزوں کے اجرا کے حوالے سے کردار کی بھی تصدیق ہو گئی ہے۔
سابق سفیرحسین حقانی نے ایک امریکی اخبار میں چھپنے والے ایک مضمون میں کہا تھا کہ انھوں نے بطور سفیر حکومت کی اجازت سے امریکیوں کو ویزے جاری کیے تھے جو بالآخر اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
حسین حقانی نے آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں آئی ایس پی آر کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے کی وجوہات کے بارے میں خدشات کی صداقت کیوں نہیں جانچی جا رہی۔
اس حوالے سے سابق وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو امریکیوں کو متعلقہ حکام کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ویزے جاری کرنے کی اجازت دینے کا دستاویز سامنے آنے پر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ امریکی سپیشل فورسز ایبٹ آباد میں ویزے لے کر نہیں آئی تھیں۔
ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے مطالبہ کیا کہ ویزوں سے متعلق تفتیش 2002 سے 2017 تک کی جائے۔ 'ہر دور کے لیے طریقہ کار سب کے لیے برابر ہونے چاہییں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اگر عام کر دی جاتی تو یہ سوال جو آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں وہ نہ پوچھتے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ سفیر کو اختیارات دینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سفارتخانے کے طریقہ کار کو نظر انداز کر کے ویزے جاری کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'اختیارات سفارتخانے کو دیے گئے تھے جہاں ڈیفنس اتاشی بھی ہوتے ہیں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی ہوتے ہیں۔ سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد یہ نہیں کہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا جائے۔'
ان کا مزید کہنا تھا 'ویزے دینے کا اختیار مشروط تھا کہ ان امریکی حکام کی سفارش امریکی دفتر خارجہ کرے۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ امریکی سپیشل آپریشن فورس کو ویزے دیے جائیں۔'
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی تفتیش کی جائے نہ کہ ویزے دینے کے طریقہ کار کو۔
اس سے قبل پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ان نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ اس کے وزیرِ اعظم نے اپنی حکومت کے آخری حصے میں اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو امریکیوں کو متعلقہ حکام کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ویزے جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔