آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خط میں یہ نہیں تھا کہ امریکی سپیشل آپریشن فورسز کو ویزے دیے جائیں: یوسف رضا گیلانی
سابق وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو امریکیوں کو متعلقہ حکام کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ویزے جاری کرنے کی اجازت دینے کا دستاویز سامنے آنے پر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ امریکی سپیشل فورسز ایبٹ آباد میں ویزے لے کر نہیں آئی تھیں۔
جمعے کو ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے مطالبہ کیا کہ ویزوں سے متعلق تفتیش 2002 سے 2017 تک کی جائے۔ ’ہر دور کے لیے طریقہ کار سب کے لیے برابر ہونے چاہییں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اگر عام کر دی جاتی تو یہ سوال جو آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں وہ نہ پوچھتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سفیر کو اختیارات دینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سفارتخانے کے طریقہ کار کو نظر انداز کر کے ویزے جاری کرے۔
'اختیارات سفارتخانے کو دیے گئے تھے جہاں ڈیفنس اتاشے بھی ہوتے ہیں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی ہوتے ہیں۔ سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد یہ نہیں کہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا جائے۔'
ان کا مزید کہنا تھا 'ویزے دینے کا اختیار مشروط تھا کہ ان امریکی حکام کی سفارش امریکی دفتر خارجہ کرے۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ امریکی سپیشل آپریشن فورس کو ویزے دیے جائیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی تفتیش کی جائے نہ کہ ویزے دینے کے طریقہ کار کو۔
اس سے قبل پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ان نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ اس کے وزیرِ اعظم نے اپنی حکومت کے آخری حصے میں اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو امریکیوں کو متعلقہ حکام کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ویزے جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زردای کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں وزیر اعظم رضا علی گیلانی کی جانب سے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو بھیجے گئے مکتوب کے بارے میں کہا کہ اس میں 'کچھ بھی نیا یا غلط نہیں تھا'۔
اس وقت کی وزیر اعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی کی دستخط سے اگست 2010 میں جاری یہ خط جمعرات کی شب سے پاکستانی میڈیا میں گردش کر رہا تھا۔ خط میں حسین حقانی کو ایک سال کی مدت کے ویزے پاکستان میں متعلقہ حکام کو بھیجے بغیر جاری کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
فرحت اللہ بابر سے قبل آصف علی زرداری نے بھی حسین حقانی کو کوئی ایسا اختیار دینے سے ایک انٹرویو میں انکار کیا تھا۔
فرحت اللہ بابر نے اس شبہے کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم کے خط کی اچانک گردش کے محرکات سیاسی ہیں اور اس کا مقصد اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم دارالحکومتوں میں قائم سفارتخانوں میں بھی سکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔
فرحت اللہ بابر کے مطابق: 'وزیر اعظم نے سفیر کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ ویزے جاری کریں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سفارت خانے کے اندر کسی بھی درخواست پر دیگر اداروں کے پاس جانے سے روکا جائے۔ اس کا مقصد اداروں کو بائی پاس نہیں بلکہ ویزے کے عمل میں تیزی لانی تھی۔'
انھوں نے کہا کہ سوال یہ اہم نہیں ہے کہ کس وجہ سے امریکیوں کو ویزے جاری کیے گئے جنہوں نے بالآخر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا، بلکہ 'جواب طلب سوال یہ ہے کہ اسامہ چھاؤنی کے علاقے میں کس طرح رہائش اختیار کیے ہوئے تھا؟'
پیپلز پارٹی کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ 2001 سے ویزوں کے اجرا اور طریقہ کار سے متعلق تحقیقات کی جائیں۔ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں کہ مشرف دور میں بلوچستان کے شمسی ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بعد کتنے امریکی ویزے اور کتنے بغیر ویزے کے پاکستان میں داخل ہوئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 'پیپلز پارٹی کے خلاف جاری اس مہم' میں سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ سیاسی حکومتوں کا ویزے جاری کرنے کے اختیار کو چیلنج ہی کیوں کیا جا رہا ہے۔ جمہوری ممالک میں سیاسی قیادت ہی ویزوں کا فیصلہ کرتی ہیں۔