پاکستان: آصف زرداری نے ٹی وی پروگرام کی میزبانی نہیں کی

آصف علی زرداری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنزرداری نے پروگرام کی میزبانی نہیں کی بلکہ بول چینل کو انٹرویو دیا تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تردید کی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری پاکستان کے نجی ٹی وی چینل بول پر کسی قسم کے سیاسی تجزیے کے پروگرام کی میزبانی کرنے والے تھے۔

فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ آصف علی زرداری انٹرویو تو دیتے رہتے ہیں اور حال ہی میں انھوں نے بین الاقوامی جریدے 'فوربز' کو بھی ایک انٹرویو دیا ہے اور جہاں تک بول ٹی وی کا تعلق ہے وہ ابھی ایک انٹرویو ہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان پر پہلے بھی اتنے الزامات لگ چکے ہیں اور اب اگر ایک اور الزام لگتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے نجی ٹی وی چینل 'بول' کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار چلایا گیا تھا جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری 'پاکستان کھپے' کے نام سے ایک ٹی وی پروگرام کی میزبانی کررہے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور طاہر القادری کے لیے بھی ایسا ہی اشتہار چلایا گیا تھا تاہم بعد میں وہ دونوں بھی انٹرویو ہی ثابت ہوئے تھے۔

آصف علی زرداری کا پروگرام 'پاکستان کھپے' گذشتہ شب نشر کیا گیا جس میں آصف علی زرداری بلاول ہاؤس کراچی سے براہِ راست شریک ہوئے۔ اس میں انھوں نے ملکی اور بین الاقوامی امور پر بات کی۔

انھوں نے کہا کہ 4 سالوں سے وزیرِ خارجہ نہ ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت پاکستان کی پوزیشن کو نہیں سمجھتی اور اسے عالمی سیاسی معاملات کا ادراک نہیں ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں میاں نواز شریف انڈيا کو اپنی مارکیٹ سمجھتے ہیں جبکہ افغانستان کو جس کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی تعلقات ہے یکسر نظرانداز کررہے ہیں۔

پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور اگر اسلام آباد ان کے ساتھ مذاکرات کرے تو تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔