فوجی عدالتوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی اپنی تجاویز پر قائم: فرحت اللہ بابر

فرحت اللہ بابر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرحت اللہ بابر نے کہا کہ آئینی ترمیم میں ترامیم پیش کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے

وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع پر رضامندی کے اعلان کے باوجود پیپلز پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نو تجاویز پر قائم ہے۔

وفاقی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں حزب مخِالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے قیام میں دو سال کی توسیع کے معاملے پر رضامند ہوگئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اُن نو تجاویز پر قائم ہے جو پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بتائی تھیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں میں سیشن جج بیٹھانے کی تجویز واپس لے لی ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع پر بھی راضی ہو گئی ہیں اور اس ضمن میں 23ویں آئینی ترمیم کا بل جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی طرف سے ایک بیان میں اس کی تردید کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کی جماعت اپنی اُن تجاویز پر قائم ہے جن میں فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔

زرداری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی اپنی نو میں سے سات تجاویز سے دستبردار ہو گئی جن میں فوجی عدالتوں میں سیشن جج بیٹھانے کی تجویز بھی شامل تھی

اُنھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم میں ترامیم پیش کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے اور اگر جمعے کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مزید کوئی تجاویز آئیں تو ان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے اس مسودے میں فوجی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں ملزموں کو اپیل کا حق دینے کے ساتھ ساتھ قانون شہادت پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بات کی جائے گی۔

فرحت اللہ بابر کے اس بیان کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات چوہدری منظور نے کہا ان کی جماعت جمعے کو اپنی نو تجاویز کا مسودہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع پر پہلے ہی رضامند تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے چار مارچ کو فوجی عدالتوں کے قیام پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی تاہم اس کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔

اس کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کے حوالے سے نو تجاویز سامنے آئی تھیں جن میں فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال مقرر کرنا، ان عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی افسر کے علاوہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی تعیناتی، ملزمان کی 24 گھنٹے میں عدالت میں پیشی اہم ہیں۔