18 دن کی بندش کے بعد سینکڑوں افراد پاک افغان سرحد پار کرنے میں کامیاب
دو ہفتے سے زیادہ عرصے کی بندش کے بعد جب منگل کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کھلی تو طورخم میں اسے عبور کرنے ہزاروں افراد جمع ہوئے تاہم پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق شام تک تین ہزار کے قریب افراد ہی سرحد پار کر پائے۔
ایک اندازے کے مطابق سرحد کی بندش سے 25,000 افراد پاکستان میں پھنس گئے تھے۔ ان میں سے بیشتر وہ لوگ تھے جو علاج کے لیے پشاور اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کا سفر کر رہے تھے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق منگل کی صبح سات بجے سے پہلے ہی بڑی تعداد میں افغان باشندے سرحد پر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔
پشاور سے درجنوں گاڑیاں طورخم کی سرحد پر پہنچیں۔ سفر کے دوران ان گاڑیوں کی کئی مقامات پر تلاشی لی جاتی رہی اور ایسے مسافر جن کے پاس پاسپورٹس اور ویزا نہیں تھا انھیں واپس بھیج دیا گیا۔

نامہ نگار کے مطابق سرحد پر موجود ہزاروں افراد کو سخت چیکنگ کے بعد ہی آگے جانے دیا جا رہا تھا اور منگل کی سہ پہر تک صرف 300 افراد ہی سرحد عبور کر کے واپس افغانستان جا سکے جبکہ افغانستان میں پھنسے 550 پاکستانی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان نے صرف دو دن کے لیے یہ سرحد کھولی ہے جو صبح سات بجے سے لے کر رات آٹھ بجے تک کھلی رہے گی اور اس میں صرف پیدل سفر کرنے والے افراد کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
گاڑیوں پر سفر کرنے والے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ پشاور شہر سے کوہاٹ روڈ تک بڑی تعداد میں ٹرک اور ٹرالرز کھڑے ہوئے ہیں جن میں مختلف قسم کا سامان موجود ہے اور انھیں اب تک جانے کی اجازت نہیں ملی۔
نامہ نگار کے مطابق افغانستان سے بھی صرف ان افراد کو پاکستان آنے کی اجازت دی جا رہی تھی جن کے پاس پاسپورٹس اور ویزا تھا۔
سرحد کی دونوں جانب پھنسے ہوئے افراد میں بوڑھے، مرد اور خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں زیادہ تر افراد وہ تھے جو علاج معالجے کے لیے پاکستان آئے تھے اور یہاں پر اچانک سرحد کی بندش کی وجہ سے یہ یہاں پھنس گئے تھے۔

پاکستان سے افغانستان واپس جانے والوں میں وہ دو دلہنیں بھی تھیں تاہم ان کے پاس موجود سامان کی وجہ سے انھیں مشکلات پیش آ رہی تھیں کیونکہ حکام کی جانب سے انھیں ان کا سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
دوسری جانب سرحدی اور ریاستی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد کو مزید دو دن کے لیے کھولنے سے متعلق افغان حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انھوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد بند کرنے کی ٹھوس وجوہات ہیں اور اس کا مقصد شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو افغانستان سے متصل اپنی سرحد غیرمعینہ مدت کے لیے بند کی تھی۔
یہ سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی تھی۔
پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث شدت پسند سرحد پار افغان علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سرحد کی اچانک بندش کی وجہ سے دونوں جانب ہزاروں افراد پھنس گئِے تھے اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سرحد کھولنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔
پانچ مارچ کو پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیلوال نے کہا تھا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے 25 ہزار افغان باشندے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اگر آئندہ چند روز میں سرحد نہ کھولی گئی تو وہ اپنی حکومت کو تجویز دیں گے کہ ان شہریوں کو فضائی راستے سے وطن واپس لے جایا جائے۔
تاہم ان کے اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے دو دن کے لیے سرحد کھولنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا وہ افغان شہری جو ویزا حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور اب واپس جانا چاہتے ہیں ان کی سہولت کے لیے سات اور آٹھ مارچ کو طورخم اور چمن کے مقامات پر سرحدی راستہ کھول دیا جائے گا۔
وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرحدی راستے ان پاکستانی شہریوں کے لیے بھی دو دن کھلے رہیں گے جو افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کے بعد وہاں گئے اور اب واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں۔










