پولیس اور فوج پر حملے، سات اہلکاروں سمیت آٹھ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں جمعرات کو پولیس اور سکیورٹی فورسز پر دو حملوں میں تین فوجیوں اور چار پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ ایک کپتان سمیت تین فوجی اہلکار جمعرات کی صبح صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں دیسی ساخت کے بم دھماکے میں مارے گئے جبکہ اس حملے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے شہر آواران میں فوجی قافلہ جا رہا تھا جب دیسی ساخت کے بم کا دھماکہ ہوا۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس آئی ای ڈی دھماکے میں کیپٹن طحٰہ، سپاہی کامران ستی اور سپاہی مہتر جان ہلاک ہوئے ہیں۔
آواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔
آواران میں گزشتہ کئی سالوں سے بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ وہاں اب پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی واقعہ جمعرات کی شب خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
پولیس اہلکاروں نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ یہ واقعہ پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک پیٹرول سٹیشن پر پیش آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اہلکاروں کے مطابق رات نو بج کر بیس منٹ پر ڈیرہ ٹاؤن پولیس تھانے کی گاڑی ڈیزل ڈلوانے کے لیے پیٹرول سٹیشن پر رکی تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔
ٹاؤن تھانے کے اہلکار لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور چار تھے جو دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور وہ حملے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے ہیں ۔
فائرنگ کے اس واقعے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر رحمت اللہ ، سپاہی نعمان ، سپاہی راشد، ڈرائیور ارشاد اور پیٹرول سٹیشن کا ملازم فضل الرحمان ہلاک ہوئے ہیں ۔
کالعدم شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں ان کارروائیوں کو ’آپریشن غازی‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا ہدف فوج، حکومتی اداروں، عدلیہ اور میڈیا کو قرار دیا گیا ہے۔










