جنوبی وزیرستان: بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین اہلکار ہلاک

فوج

،تصویر کا ذریعہISPR

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو سکیورٹی فورسز پر ہونے والے بارودی سرنگ کے ایک حملے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ طفر اسلام خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً 50 کلومیٹر دور زرملین کے علاقے میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار سڑک پر جارہے تھے کہ اس دوران انہیں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں ایف سی کے تین اہلکار ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ بارودی مواد پہلے سے نصب کیا گیا تھا یا ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کےلیے نصب کیا گیا تھا۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کیا ہے۔

ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ سے جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بارودی سرنگ کے دھماکوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں درجنوں عام شہری ہلاک یا معذور ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والے آپریشنوں کی وجہ سے وہاں زیادہ تر علاقوں میں حکومت کی عمل داری دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔ تاہم وہاں وقتاً فوقتاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بم دھماکوں یا دیگر حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔