سندھ اسمبلی: پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر کی خاتون رکن سے معافی

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر امداد پتافی نے اپوزیشن کی رکن نصرت سحر سے معافی مانگ لی اور انہیں دوپٹہ پہنا کر بہن بنالیا۔ امداد پتافی نے اقرار کیا کہ ان سے غلطی ہوگئی تھی اب آئندہ اس قسم کی غلطی نہیں کریں گے۔
نصرت سحر عباسی نے آبدیدہ آنکھوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جمعے کو ہوا اگر اُسی روز روک دیا جاتا ہے تو یہ بات نہیں بنتی، اس میں سینیئرز نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
’میری دل آزاری ہوئی ہے، میرے خاندان نے اس کو محسوس کیا اس کے بعد پوری سندھ کی دل آزاری ہوئی میں مجبور تھی ماں بہنیں اور والد جن کا دل چاہتا ہے کہ ان کی بیٹیاں اور بہنیں سیاست میں آئیں جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو دل ٹوٹتے ہیں اور خوف پیدا ہوتا ہے، اسی لیے میں نے اسٹینڈ لیا۔‘
نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ اگر خواتین کو اس ایوان میں ہراساں کیا جائے گا جہاں خواتین کی تحفظ اور حقوق کی بات کی جاتی ہے تو باہر کی خواتین کو کیسے تحفظ کا احساس ہوسکتا ہے۔
’خدا کی قسم میں معاف نہ کرتی لیکن بزرگ آئے اور اس شخص نے چادر پہنائی اور بہن کا درجہ دیا۔ یہ چادر سندھ کی روایت کا حصہ ہے میں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔‘
نصرت سحر نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا جہنوں نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات لیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کا ماحول نہ پیدا ہو اور ایسا رویہ نہ رکھا جائے۔
اس سے قبل صبح کو نصرت سحر عباسی توہین آمیز جملوں کے خلاف پیٹرول کی بوتل سمیت اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوگئیں۔ انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر دو روز میں امداد پتافی کو برطرف نہ کیا گیا تو وہ خود سوزی کرلیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’اگر مجھے انصاف نہ ملا تو بلاول سے سندھ کی کوئی بھی بیٹی انصاف نہیں مانگے گی۔‘

اسی دوران ایوان میں جب صوبائی وزیر امداد پتافی ایوان میں وضاحت کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا اور اسپیکر کے ڈائس کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے، جمہوں نے قائم مقام اسپیکر شہلا رضا پر جانبداری کا الزام عائد کیا تاہم شہلا رضا نے دعویٰ کیا کہ وہ تمام خواتین کا احترام کرتی ہیں اور انہوں نے امداد پتافی کو وارننگ دی تھی۔ اپوزیشن کے احتجاج جاری رہنے کے بعد اسپیکر نے اجلاس دس منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔
وقفے کے بعد جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو امداد پتافی نے کہا کہ وہ نصرت عباسی اور ایوان سے معذرت کا طلب گار ہے انسان غلطیوں سے سیکھتا ہے وہ اپنے ساتھ چادر لائے ہیں جو نصرتو سحر کو پہنانا چاہتے ہیں، وہ خواتین اراکین کے ساتھ نصرت کی نشست پر پہنچے اور ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور چادر پہنائی، نصرت سحر نے انہیں معاف کردیا۔
واضح رہے کہ جمع کے دن ایوان میں انگریزی میں سوال کا جواب دینے پر صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی ناراض ہوگئے تھے، انہوں نے خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کو کہا کہ وہ چئمبر میں آئیں تو وہ انہیں وہاں جواب دیں گے۔
نصرت سحر عباسی کے اس احتجاج کے دوران ہی اسپیکر شہلا رضا نے اجلاس ملتوی کردیا۔ ٹی وی چینلز اور دوسرے روز کے اخبارات میں یہ معاملہ زیر تنقید آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس کا نوٹس لیا۔







